آداب حیات

by Other Authors

Page 139 of 287

آداب حیات — Page 139

اور وہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ القصص میں فرماتا ہے۔وإذا سمعوا اللغوا عرَضُوا عَنْهُ (القصص (۵۲) کہ جب وہ کوئی لغویات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں۔طعن و تشنیع کرنا اور بُرے ناموں سے پکارنا گناہ ہے اور مومنوں کو اس سے روکا گیا ہے۔سورۃ الحجرات میں آتا ہے۔وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالا نقاب (الحجرات : ۱۲ اور نزنم ایک دو کے پر طعن کیا کرد۔اور نہ ایک دوسے کوئے ناموں سے یاد کیا کرو۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک درسے کو برا کہنے والے جو کچھ کہیں اس کا وبال ابتدار کرنے والے پر ہوتا ہے جب تک کہ مظلوم حد سے نہ نکلے۔رمسلم کتاب البر والصلة والأدب باب النهي عن السباب) آپ نے فرمایا جس نے مسلمانوں پر سختی کی اس پر اللہ سختی کرے گا۔تمه ندی ،ابواب البر والصلة باب الخيانة والغش) ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا۔جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے کرائے کا فی توان دونوں میں سے ایک پر کفر ضرور آتا ہے۔اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، تو اس پر۔ورنہ کہنے والے پر کفر لوٹے گا۔مسلم کتاب الایمان باب حال ایمان من قال لأخيه المسلم یا کافر) حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم سے سنا کہ جو شخص کسی دوگر کو کفر کے ساتھ نسبت کرے یا اسے کہے۔اسے عدو اللہ اور وہ ایسا نہ