آداب حیات

by Other Authors

Page 125 of 287

آداب حیات — Page 125

۱۲۵ راستوں یا سر راہ نشست گاہوں میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکا جائے۔نہ ہی کوئی ایڈا دینے والی چیز پھر یا چھلکے وغیرہ پھینکے جائیں۔بلکہ اگر کوئی کانٹا، میری چھلکے یا کوئی تکلیف چیز اور راستہ میں رکاوٹ ڈالنے والی چیز پڑی ہو اُسے ہٹا دینا چاہیئے کیونکہ یہ نیکی اور اب کا کام ہے اور نفس کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے۔حضرت عائشہ سے روایت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بینی آدم کے ۳۶۰ جوڑ ہیں۔جو اللہ اکبر، الحمد للہ لا الہ الا الله سبحان الله استغفر الله ۳۶۰ بار کہے اور لوگوں کے رستے سے پتھر، کانٹا، ہڈی دور کر دے یا اسی قدر نیکی کرے برائی سے روکے تو اس نے اپنا نفس دوزخ کی آگ سے بچا لیا۔مسلم کتاب الزكوة باب كل نوع من المعروف صدقة) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے کچھ اوپر ستر یا کچھ اوپر ساتھ شعبے ہیں۔ان میں سے سب سے افضل لا الله اوپرس الا اللہ کہنا ہے اور چھوٹے سے چھوٹا رستے سے ایدار کا ہٹا دیا ہے اور حیاء ایمان کی جزو ہے۔(مسلم کتاب الایمان باب الحجيا شعبة من الایمان) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں نے ایک آدمی کو بہشت میں سیر کرتے دیکھا۔اس عمل کے ثواب ہیں کہ ایک درخت مسلمانوں کی راہ میں ایذاء دیتا تھا۔اس نے اس ایذاء دینے والی شاخ کو کاٹ کر الگ کر دیا۔مسلم کتاب الادب باب فضل از الته الاذى عن الطريق) نشست گاہ اگر سر راہ ہو تو مردوں کو چاہیے کہ عورتوں کے گزرتے وقت وہ اپنی نگاہیں نیچی کر لیا کریں تاکہ دلوں کی پاکیزگی قائم رہے اور شیطان ان پر حملہ نہ کر سکے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔