آداب حیات

by Other Authors

Page 119 of 287

آداب حیات — Page 119

114 ارشاد ہوا۔کیوں ؟ بولے۔میں نے رمضان میں بیوی سے ہمبستری کی۔آپؐ نے فرمایا۔ایک غلام آزاد کرد - بولا۔غریب ہوں۔غلام کہاں سے لاؤں۔ارشاد ہوا ۲ مہینے کے روزے رکھو۔بولا۔یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔کہا اتنا مقدور نہیں۔اتفاق سے کہیں سے زنبیل مجھر کر کھجوریں آگئیں۔آپ نے فرمابا بفر ہوں کو خیرات کہ آؤ بعض کی۔اس خدا کی قسم ! جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے۔سارے مدینہ میں مجھ سے شہد کو کوئی غریب نہیں۔آپ بے ساختہ مہنس پڑے اور فرمایا۔اچھا تم خود ہی کھا لو۔ابخاری کتاب النفقات باب نفقة العسر على اهله) - مجلس میں جب ایک مسئلہ ملے ہو جائے تو دوسرا مسئلہ پیش کرنا چاہیئے۔حضور اکرم صلی للہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔تمام حاضرین ادب سے سر جھکائے بیٹھے رہتے۔کوئی شخص ہوتا تو جب تک وہ چپ نہ ہو جائے دوسرا شخص نہیں بولنا تھا۔۲۷۔مجلس سے بلا عذرا در مجبوری کے نہیں اُٹھنا چاہیئے کیونکہ ایسا شخص لیا اوقات فیض سے محروم ہو جاتا ہے۔حضور صلی الہ علیہ وسلم ایسے لوگوں پر جو مجالس میں آکر واپس چلے جاتے تھے۔ناراض ہوتے تھے۔آپ ایک مرتبہ صحابہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ تین شخص آئے۔ایک شخص نے حلقہ میں تھوڑی سی جگہ خالی پائی۔وہیں بیٹھ گئے۔دو کے صاحب کو درمیان میں موقعہ نہیں ملا۔اس لئے سب کے پیچھے بیٹھے۔لیکن تیسرے صاحب واپس چلے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ان میں سے ایک نے خدا کی طرف پناہ لی۔خدا نے اس کو بھی پناہ دی۔ایک نے جیا کی۔خدا بھی اس سے شرمایا۔ایک نے خدا سے منہ پھیرا۔خدا نے اس سے بھی منہ پھیر لیا۔امسلم کتاب السلام باب جلوس في المجلس)