آداب حیات — Page 118
JA ہم نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! جنت کے باغ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : ذکر کی مجالس جنت کے باغ ہیں۔صديقة" الصالحین مثات الع کرده شعبه اشاعت وقف جدید) اللہ تعالیٰ قرآن مجیب میں فرماتا ہے۔وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي نَاتٌ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكَا وَتَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أعمى۔( سورة طه : ۱۲۵) اور جو شخص میری یاد سے اعراض کرے تو اس کے لئے تنگ زندگی ہے اور لئے تنگ زندگی قیامت کے دن ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مجلس میں بیٹھنے تو ستر سے زائد بار آپ استغفار کرتے تھے۔۲۵ مجلس میں شگفتہ مزاجی اور ہلکا پھلکا مزاح کا رنگ بھی اختیار کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔حضور مہذب ظرافت اور ہنسی میں خود بھی شریک ہوتے تھے۔حضور اکرم اور صحابہ کرام کی مجالس شگفتہ مزاجی کے اثر سے خالی نہ تھیں۔ایک دن حضور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں بیان فرمایا کہ جنت میں خدا سے ایک شخص نے کھیتی کرنے کی خواہش کی۔خدا نے کہا۔کیا تمہاری خواہش پوری نہیں ہوئی ہے۔اس نے کہا۔ہاں لیکن میں چاہتا ہوں کہ فوراً بوؤں اور ساتھ ہی تیار ہو جائے۔چنانچہ اس نے بیج ڈالے فورا دانہ اُگا ، بڑھا اور کاٹنے کے قابل ہو گیا۔ایک بدو سیٹھا ہوا تھا۔اس نے کہا۔یہ سعادت صرف قریشی یا انصاری کو نصیب ہوگی جو زراعت پیشہ ہیں۔لیکن ہم لوگ تو کاشتہ کار نہیں۔آپ ہنس پڑے۔ربخاری کتاب الرد على الجمعيه وغيرهم الوحيد باب كلام الحرب مع اهل الجنة ) ایک دفعہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں تباہ ہو گیا۔