آداب حیات — Page 117
116 کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔کیا تم اسی لئے پیدا کئے گئے ہو ؟ قرآن کو باہم مکرا ہے سو گزشتہ امتیں انہیں باتوں سے برباد ہوئیں۔ر ابن ماجه المقدمة باب القدر) ۲۲۔اگر کسی مجلس میں کسی مسلمان کے خلاف ناحق تہمت لگائی جارہی ہو۔تو اس کا واجبی جواب دینا چاہیے کیونکہ انسان کی عزت سب سے قیمتی متاع ہے۔صحابہ کرائٹر کو اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ وہ کسی کی شکایت با عیوب حضور تک پہنچا ہیں۔آپ فرماتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ دنیا سے جاؤں تو سب کی طرف سے صاف جاؤں۔ر ابو داؤد کتاب الادب باب في رفع الحديث من المجلس) -۲۳ - مجالس میں ہدایت، ارشاد، آداب، اخلاق ، قرآنی علوم و معارف اور تزکیہ نفوس کی باتیں کرنی چاہئیں۔کیونکہ اسلام خود نیک بنے اور دوسروں کو نیک بنانے کا حکم دیتا ہے۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ( سورة ال عمران : (11) کہ تم وہ بہترین جماعت ہو جو لوگوں کے (فائدہ کے) لئے پیدا کی گئی ہے۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔۲۲- مجالس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید ضرور کرنی چاہیئے نیز کثرت سے استغفار کرنا چاہیئے اور درود پڑھتے رہنا چاہیئے۔کیونکہ اللہ تعالے کے بزرگ فرشتے ذکر کی مجالس کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔اے لوگو یا جنت کے باغوں میں چرنے کی کوشش کرو۔