آداب حیات — Page 106
خرى وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) (سورة البقره : (١١٥) اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جس نے اللہ کی مساجد سے لوگوں کو روکا کہ اس میں اس کا نام لیا جائے اور اس کی ویرانی کے در پے ہو گیا۔ان لوگوں کے لئے مناسب نہ تھا کہ ان مساجد کے اندر داخل ہوتے مگر خدا تعالے سے ڈرتے ہوئے۔ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔خود بانی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے میچوں کو اپنی مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت دی تھی۔زا والمعاد عربی جلد دوم صفحہ ۳۵ مطبوعہ میجمینة بمصر میں لکھا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بحران کا عیسائی وقد آیا تو وہ لوگ عصر کے بعد مسجد نبوی میں آئے اور گفتگو کرتے رہے۔گفتگو کرتے کرتے ان کی عبادت کا وقت آگیا (غالباً وہ اتوار کا دن ہو گا چنانچہ وہ وہیں مسجد میں اپنے طریق کے مطابق عبادت کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔لوگوں نے چاہا کہ وہ انہیں روک دیں۔مگر رسول کریم نے فرمایا۔ایسا مت کرد۔چنانچہ انہوں نے اسی جگہ مشرق کی طرف منہ کیا اور اپنے طریق کے مطابق عیادت کی۔پس مساجد میں اللہ کی عبادت سے روکنے کا کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔اور جیسے رسول کریم نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا۔۰۲۱ (زاد المعاد جلد دوم ص ۳۵ مطبع بیمینہ بمصر مساجد کا قیام تقوی کو مد نظر رکھ کر کیا جائے۔ان کو فتنہ و فساد کی بنیاد رکھنے کی جگہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی بغاوت کرنے کا ذریعہ بنایا جائے کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔پس مساجد امن کے لئے روحانیت کی ترقی کے لئے اور دلوں کی تسکین کے لئے بنائی جانی چاہئیں۔تاکہ مساجد سے مسافر بھی شہر میں رہنے والے بھی۔توحید کامل پر قائم رہنے والے لوگ کبھی فائدہ اٹھائیں اور خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکیں۔