آداب حیات

by Other Authors

Page 66 of 287

آداب حیات — Page 66

قبلہ شعائر اللہ میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَن يُعظِمُ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (سورة الج (۳۳) روایت ہے کہ یہ مقدس گھر تمام انبیاء کا قبلہ ر ہا ہے ، حضرت آدم اور دوکر انبیا تو نے اس کا حج کیا۔(طبری تاریخ الوفا ) قبلہ کو مقرر کر نے میں یہ حکمت مضمر تھی کہ مسلمانوں کے اندر یک جہتی اور اتحاد پیدا ہوا اور سب کی توجہ اور مقصد ایک ہی طرف ہے۔یعنی توحید خالص کی طرف۔جن لوگوں کو کعبہ کی عمارت نظر نہیں آتی۔دُور ہیں یا دو کے ممالک میں رہتے ہیں۔ان کا قبلہ۔کعبہ اور مسجد الحرام کی جہت ہے۔خوف کی حالت ہو یا انسان کسی ایسی سواری پر سفر کر رہا ہو جسے ٹھہرانا اس کے اپنے اختیار میں نہیں یا ٹھہرانا موجب حرج ہے اور چلتے ہوئے صحیح قبلہ کی طرف منہ کرنا خاصہ مشکل ہے یا سفر ہوائی جہاز کا ہے۔ایسی تمام صورتوں میں مدھر آسانی ہو اس طرف منہ کر کے نماز پڑھ لینا جائز ہے۔د اسلامی نماز از ملک سیف الرحمن (۲) اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے۔وَلِلهِ المَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَشَمَ وَجُهُ اللَّه (سورة البقره : ۱۱۷) اور اللہ تعالیٰ کے لئے مشرق و مغرب ہیں ہیں جہاں کہیں تم اپنے رخ پھیرو گے وہیں اللہ کی توجہ ہو گی۔نماز ادا کرنے سے پہلے نیت نماز کرے۔نیت کے معنی اعدادہ کے ہیں یعنی وہ دل میں یہ ارادہ کرے کہ وہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے اور کتنی رکعت نماز شروع کرنے لگا