آداب حیات — Page 64
۶۴ وقت پر نماز ادا کرنا اللہ تعالی کے نزدیک مقبول ترین عمل ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ساعمل زیادہ پسند ہے۔آپ نے فرمایا۔نماز جو وقت پر ادا کی گئی ہو۔(تجرید بخاری حصہ اول (۱۳) عذر کے باعث دو نمازوں کو ملاکر پڑھنا جائز ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں سات دفعہ مغرب اور عشاء اور آٹھ دفعہ ظہر وعصر کو ملا کر پڑھا ہے۔(یہ عذر کے باعث کیا تھا) دہ مواقع جن میں پیغمبر خدا نے نمازوں کو جمع کیا ( تجرید بخاری حصہ اول (۱۳۴) را، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کو جاتے وقت ظہر و عصر کو جمع کیا۔۔اور پھر عرفات سے واپس ہو کر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔فروه خندق میں آپ نے پانچوں نمازوں کو جمع کیا۔,۔آپ نے سفروں میں ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔مجموعه فتادی احمدیه من جلد اول مرتبه مولوی محمد فضل صاحب چنگوی) اگر کوئی شخص نماز بھول جائے یا سو جائے اور وقت پر نماز نہ پڑھ سکے تو ہیں وقت یاد آئے یا بیدار ہو تو اس وقت وضو کر کے نماز پڑھ لے۔بعد از وقت نماز ادا کرنے کو قضا کہتے ہیں۔مومن کو چاہیئے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی نام نمازوں کی حفاظت کرے اور اس قرآنی ارشاد کو ہمیشہ مد نظر رکھے۔حاتِظُوا عَلَى الصَّلَوتِ وَالصَّلوة الوسطى وَقُومُوا لِلَّهِ فَنِتِينَ رسورۃ بقره : ۲۳۹) ترجمه تم تمام نمازوں کا اور (خصوصاً) درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو۔اور اللہ کے فرمانبدار ہو