آداب حیات — Page 28
بات ثابت نہیں کہ کبھی صحابیہ نے حضراکرم صلی الہ علیہ سلم کی قبر بیٹھ کر قرآن مجید پڑھا ہو۔بلکہ نسائی جلد اول میں ہے قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدَنْ يُجْلِسَ اَحَدُكُمْ صَلَّى عَلى جَهْرَةٍ حَتَّى تَحْرَقَهُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ تَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ (سنن ابن ماجد کتاب الجنائز باب ما جاء في النهي عن المشي على القبور والجلوس عليها) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تم میں سے کسی کا آگ کی چنگاری پر بیٹھ کر جلنا قبر پر بیٹھنے سے اچھا ہے۔اس حدیث سے قبروں پر بیٹھ کر قرآن مجید پڑھنے کی ایک قسم کی نہی مطلق کا استنباط ہوتا ہے ۲۴ (مسجد اله مجموعه فتادی احمدیہ جلدا صه المولفه مولوی محمد فضل صاحب چنگوی مطبوعه خادم التعلیم پریس لاہور) میت کے لئے صف بجھا کر اور بیٹھ کر قرآن مجید نہیں پڑھنا چاہیے۔کیونکہ یہ طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت نہیں۔یہ بدعت ہے اور رسم ہے اور نہ ہی روٹیوں پر قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہئیے یہ سب بدعت کے دروانے ہیں۔-۲۵ - قرآن مجید کو ایک رکعت میں ختم نہیں کرنا چاہیئے۔بعض لوگ جو ایک رکعت میں قرآن شریف ختم کرنا فخر سمجھتے ہیں وہ در حقیقت لاف مارتے ہیں دنیا کے پیشہ ور لوگ بھی اپنے اپنے پیشہ پر ناز کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس طریق سے قرآن تم نہیں کی بلکہ چوٹی چھوٹی سورتوں پر اکتا گیا۔جواله مجموع فتاوی احمدیه مردان موافقه مولوی محمد فضل صاحب چنگوی مطبوعہ خادم التعلیم پریس لاہور) ہفتہ بھر میں قرآن مجید (پڑھنا) ختم کرنا حد ہے۔