آداب حیات — Page 29
۲۹ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے پوچھا۔تو قرآن کیونکر ختم کرتا ہے۔انہوں نے جواب دیا۔سر رات آپ نے فرمایا۔واقرء القرآن في كُلِّ شَهْرٍ اور قرآن مہینے بھر میں ختم کیا کرو۔جب عبد اللہ بن عمرو نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے تو آپ نے انہیں فرمایا وَاقْرَأ فى كُلِّ سَع لِيَالٍ مَرَةٌ اور قرآن سات روز میں ختم کیا کر وہ کہتے ہیں پیس کاش کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت منظور کر لینا۔کیونکہ اب میں بوڑھا اور ضعیف ہو گیا ہوں۔اب وہ اپنے کسی گھر والے کو ساتوں حصہ قرآن کا دن میں سند لیتے۔۲۶ تجرید بخاری حصه دوم ص ۳۰۴ ترجمه از مولوی فیروز الدین مطبوعہ کواپریٹو سٹیم پریس لاہور) قرآن مجید کے بوسیدہ اوراق کو بے ادبی سے بچانے کے واسطے جلا دیا جائے تو کیا جائز ہے ؟ حضرت اقدس مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے فرمایا جائز ہے۔حضرت عثمان نے بھی بعض اوراق جلائے تھے۔نیت پر موقوف ہے اجوال مجموعه فتادی احمد به جلد دوم مثه مولفه محمد فضل صاحب سینگوی) ہیں چاہئے کہ ہم حاملین قرآن مجی دین کو اللہ کے اہل بن جائیں اور قرآن مجید کی تلاوت شب وروز کے اوقات میں کریں۔اس کے معانی اور مفہوم پر غور وفکر کریں۔اور اس کے تمام آداب کو مدنظر رکھیں۔اسے حفظ کریں۔اور اس نور سے اپنے گھروں کو رونق بخش میں تاقیامت کے دن قرآن مجید ہمارا شفیع بن جائے اور اس حدیث نبوی