آداب حیات — Page 262
مریض کے پاس جا کر زیادہ باتیں اور شور نہیں کرنا چاہیئے اور اگر مریض کہے کہ میرے پاس سے اُٹھ کر آپ چلے جائیں تو بغیر بُرا منائے اٹھ کر چلے جانا چاہیئے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آنحضرت کی وفات سے دو تین دن قبل گھر میں بہت سے لوگ تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب بھی تھے حضور نے فرمایا۔کاغذ لاؤ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں۔تاکہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نبی کریم کو درد کی سخت تکلیف ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔اس وقت حاضرین میں اختلاف ہوا۔اور جھگڑنے لگے۔۔۔۔۔۔۔اور جب شور حضور کے پاس ہونے لگا تو آپ نے فرمایا۔یہاں سے اُٹھ جاؤ۔د بخاری کتاب المرضى باب قول المريض قومواعتی) " پس معاشرہ میں محبت کی فضا کو قائم رکھنے اور یک جہنی پیدا کرنے کے لئے بیمار کی تیمار داری کرنا بہت ضروری ہے۔یہ وہ مقدس مذہبی فریضہ ہے جس پرعمل کرنے سے انسان خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو حاصل کر لیتا ہے۔اور جنت میں اپنا گھر بنا لیتا ہے اور ملائکہ کی دعاؤں سے فیض یاب ہونے لگتا ہے۔پس تمہیں چاہیے کہ ہم اس فریضہ کی ادائیگی میں کبھی کو تا ہی نہ برتیں۔بلکہ اپنے بھائی بندوں کی تکلیف کی گھڑیوں میں ان کے دکھ بانٹیں۔اور ان کے لئے ہمیشہ دعا گو ہوں تا خدا کے قرب کا شرف حاصل کر سکیں۔آمین