آداب حیات

by Other Authors

Page 244 of 287

آداب حیات — Page 244

۲۴۴ حضرت جعفر بن عمرو بن امیہ اپنے والد عمرو بن امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ بجری کا ایک شانہ آپ کے دست مبارک میں تھا جسے آپ چھری سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے۔پھر نماز کے لئے اذان کہی گئی تو اس شانہ اور چھڑی کو جس سے گوشت کاٹ رہے تھے ایک طرف ڈال دیا اور کھڑے ہو گئے۔پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ابخاری کتاب الاطعمه باب قطع اللحم بالتشكين) یما جب کوئی شخص کھانے کی دعوت دے اور پھر خود کسی کام میں مشغول ہو جائے تو کیا نہیں منانا چاہیے کہ وہ ہمارے پاس ضرور کیوں نہیں آ کر بیٹھا۔حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ میں کہیں تھا۔سول کریم صلی للہ عیہ علم کیساتھ چلا جار ہا تھا کہ رسول کریم صل اللہ صل وسلم اپنے ایک دینی غلام کے گھر میں داخل ہوئے تو اس نے ایک پیالہ پیش کیا جس میں کچھ کھانے کی چیز بھی اور اس میں کندہ تھا۔رسول کریم صلی الہ علیہ سلم کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہے تھے۔جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے آپ کے سامنے کرو جمع کرنا شروع کیا اور وہ غلام اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔حضرت انس کا بیان ہے کہ جب سے میں نے رسول اللہ کو اس طرح کرتے دیکھا اسی دن سے میں کو پسند کرنے لگا۔د بخاری کتاب الاطعمه باب من اصناف رجلاً على طعام واقبل وھو علی عملہ ) ۱۲- ایک میز سے یا ایک دستر خوان سے کھانا دوسرے دستر خوان یا میز یک م ٹھا کر نہیں دینا چاہیئے۔محمد بن یوسف نے کہا میں نے محمد بن اسماعیل کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب چند لوگ دستر خوان پر بیٹھے ہوئے ہوں تو جائز نہیں کہ ایک دستر خوان والے دوسرے دستر خوان پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیں لیکن ایک ہی دستر خوان پر بیٹھے ہوئے