آداب حیات — Page 232
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی مانعت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ اس دنیا میں دسترن کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہوں گی اسی طرح ہیں ریشم اور دیباج پہنے سے بھی منع فرمایا۔د مسلم کتاب الاشتر به باب تحریم الذهب والحرب على الرجال) ۲۳ - پاکیزہ اور طیب اشیاء کھانی چاہئیں۔لیکن یہ مد نظر رکھا جائے کہ غریبوں کا حق نہ مارا جائے اور کسی کو اس کے استعمال سے ایدار نہ پہنچے اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَى عَنكُمْ وَاشْكُون بِاللَّهِ إن كُنتُم إِيَّاهُ تَعبُدُونَ (سورة البقرة : ١٤٣) کہ اے مومنو! پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں کھاؤ۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرد۔اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔پھر سورۃ البقرہ میں ہی ارشاد باری تعالی ہے ياتهَا النَّاسُ كُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطن ، إِنَّهُ لَكُمْ عَدُ وينة (سورة البقرة : (۱۷۹) اے لوگو ! زمین میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو - یقیناً وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔مومنوں پر لازم ہے کہ وہ غذائی معاملات میں طیبات کو ترجیح دیں۔تاکہ دہ منہیات سے بچ جائیں اور اعمال صالحہ بجالا کہ خدا تعالے کے شکر گزار بندے بن جائیں۔اسلام ہی وہ مذہب ہے جو بیا تا ہے کہ اگر کسی حلال چیز سے کسی کو دکھ یا ایزدار