آداب حیات — Page 189
اور جمعہ کے دن اور دنوں کی آمد پر پہنیں۔آپ نے فرمایا۔اس کو وہ شخص پہنے گا جو آخرت میں بے نصیب ہو۔کچھ عرصہ کے بعد آپ کے پاس کہیں سے ایٹمی ملتے آئے۔ان میں سے ایک حملہ آپ نے حضرت علڑ کو دیا۔انہوں نے عرض کیا۔ریشمی کتے کے بارے میں آپ جو کچھ فرما چکے ہیں اس کے پیش نظر مجھے کیوں عطا فرماتے ہیں۔جواب دیا کہ میں نے تمہیں پہننے کے لئے نہیں دیا اسے بیچ کر حاجت میں لاؤ۔ا مسلم کتاب اللباس باب تحریم الذهب والحرير على الرجال وا باحته است آن) حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے نہیں ٹیم اور دیباج پہننے سے منع فرمایا تھا۔اور فرمایا کہ یہ اس دنیا میں دوسروں کے لئے ہمیں لیکن آخرت میں تمہارے لئے ہوں گے اسلم کتاب اللباس باب تحریم استعمال الذهب والحرير للرجال ) حضرت عمر بن الخطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ریشم کا کپڑا نہ پہنو۔جو مرد دنیا میں ریشم پہنے گا۔آخرت میں نہیں پہنے گا۔(بخاری مسلم) حضرت علییؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کو دائیں ہاتھ میں لیا اور سونے کو بائیں ہاتھ میں اور فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری اُمت کے مردوں پر حرام ہیں۔ابو دا د د کتاب اللباس باب في الحرية للنساء) اور ترندی میں بروایت ابو موسیٰ الاشعری ہے کہ عورتوں کے لئے حلال ہیں۔حضور سوتی کپڑے کو اور خصوصاً دھاری دھار کپڑے کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔دسیرت خیر الرسل صت از حضرت خلیفہ اسیح الثانی شائع کردہ الشرکة اسلامیہ لمیٹیڈ ہاں کسی بیماری کی جیسے مرد کو ریشم پہننے کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت زبیر اور عبد الرحمن بن عوف کو خارش کی وجہ سے ریشیم