اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 7
14 13 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق بیان کرتے ہوئے ہماری مادر مشفق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خُلْقَهُ كُلُّهُ الْقُرْآن یعنی " آپ ﷺ کا تمام خُلق قرآن تھا اور آپ قرآنی تعلیم کی مجسم تصویر بن کر آئے تھے۔اور اسی کے پیش نظر خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَة حَسَنَة۔۔۔۔(33) الاحزاب : 22) یعنی ”اے مسلمانو ! تمہارے لئے رسول خدا کی زندگی میں ایک مکمل نمونہ موجود ہے۔پس تربیت کے ضابطہ کی تلاش کا تو کوئی سوال نہیں ہاں یہ سوال ضرور ہے کہ بچوں کی تربیت سے تعلق رکھنے والی بہت سی باتوں میں سے کن باتوں کو مقدم کیا جائے۔سو اس کے متعلق میں اپنے اس مختصر سے مضمون میں صرف ایک قرآنی آیت اور ایک حدیث پیش کرنے پر اکتفاء کرتا ہوں کیونکہ اس سے زیادہ اس مضمون میں گنجائش نہیں۔قرآن مجید کے بالکل شروع میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ۔الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ 0 (2: البقره: 4) یعنی یہ قرآن متقیوں کے لئے ہدایت نامہ بن کر آیا ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہمارے رستہ میں) خرچ کرتے ہیں۔“ ایمانی تربیت کا مرکزی نقطہ ایمان کے متعلق یہ آیت بیان کرتی ہے کہ ایمانیات کی بنیا د غیب پر ہے۔یعنی بعض ایسی نہ نظر آنے والی چیزوں پر ایمان لانا جو انسان کے اخلاق اور روحانیت کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں۔یہ چیزیں اسلام کی تعلیم کے مطابق خدا اور اُس کے فرشتے اور اس کی کتابیں اور اس کے رسول اور یوم جزا وسزا اور تقدیر خیر وشر ہیں۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ان سب چیزوں پر جو جسم کی آنکھوں سے تو نظر نہیں آتیں مگر دل اور دماغ کی روشنی سے دیکھی جاتی ہیں ایمان لائے کیونکہ ان پر ایمان لانے کے بغیر انسان کے دین کی عمارت اور انسان کے عمل صالح کی بنیاد مکمل نہیں ہو سکتی۔پس احمدی ماؤں کا پہلا فرض اپنی اولاد کا اس بنیادی ایمان پر قائم کرنا ہے۔ہر احمدی بچے کے دل میں ن راسخ ہونی چاہیے کہ میرا ایک خدا ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور جو میرا حاکم و مالک ہے اور مجھے اس کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنا چاہیے۔ہر احمدی بچے کے دل میں یہ بات راسخ ہونی چاہیے کہ دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے خدا نے فرشتے بنائے ہیں جو بظاہر نظر نہ آنے کے باوجود لوگوں کے دلوں میں نیکیوں کی تحریک کرتے اور بدیوں سے روکتے ہیں۔ہر احمدی بچے کے دل میں یہ بات راسخ ہونی چاہیے کہ خدا نے دُنیا میں وقتا فوقتا لوگوں کی ہدایت کے لئے مختلف کتابیں نازل کی ہیں اور ان سب میں سے آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن مجید ہے جس پر عمل کرنے کے بغیر انسان نجات نہیں پاسکتا۔ہر احمدی بچے کے دل میں یہ بات راسخ ہو نی چاہیے کہ لوگوں کو پیغام ہدایت پہنچانے اور ان کے لئے پاک نمونہ بننے کے لئے خدا ہر زمانہ میں اپنے رسول بھیجتا رہا ہے اور ان میں سے آخری صاحب شریعت رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو تمام نبیوں کے سردار اور خاتم النبیین اور افضل الرسل ہیں۔جن کے دین کی خدمت اور تجدید کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا ہے۔ہر احمدی بچے کے دل میں یہ بات راسخ ہونی چاہیے کہ موت کے بعد ایک اور زندگی بھی ہے جس میں جزا سزا کی تیاری کے لئے انسان کو اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا پڑے گا