اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 6 of 15

اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 6

12 11 بلکہ اس میں ایک زبردست دعوت کا رنگ بھی ہے جس میں گویا مخاطب کو آواز دے کر بلایا جاتا ہے کہ اے سُننے والے ادھر کان دھر اور صلوٰۃ او رفلاح کے رستہ پر قدم رکھتا ہوا اس طرف چلا آ۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک ارشاد میں یہ صریح اشارہ ہے کہ بچہ کی تربیت اس کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جانی چاہیے۔یہ خیال کہ شروع میں تو بچہ کچھ سمجھتا ہی نہیں بالکل غلط اور باطل ہے۔کیونکہ اول تو خواہ وہ الفاظ کو سمجھے یا نہ سمجھے بہر حال کسی نہ کسی رنگ میں اس کی ولادت کے ساتھ ہی اس کے تاثر و تاثیر کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور دماغ کے غیر شعوری حصہ میں کچھ نہ کچھ نقش جمنے لگ جاتے ہیں۔۔" علاوہ ازیں اس ہدایت میں والدین کے لئے بھی یہ سبق ہے کہ خواہ تمہارے خیال میں بچہ کا یہ زمانہ غیر شعوری زمانہ ہی ہو تمہیں ابھی سے اس کی تربیت کی فکر ہونی چاہیے۔کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کے شعور کا زمانہ کب شروع ہوتا ہے۔پس ممکن ہے کہ تم اُسے ایک گم صم بت سمجھ کر نظر انداز کر دو اور وہ اندر ہی اندر ماحول کا بُرا اثر قبول کر کے خراب ہونا شروع ہو جائے۔بہر حال اسلامی تعلیم کے مطابق بچوں کی تربیت کا زمانہ ان کی ولادت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے اور وہ ماں باپ بڑے ہی بدقسمت ہیں جو اپنے بچہ کے چند ابتدائی سال اس غفلت میں گزار دیتے ہیں کہ ابھی وہ تربیت کے قابل نہیں ہوا۔بچے کی آنکھوں کے سامنے زہر آلو د اور حیا سوز نظارے آتے ہیں اور نادانی سے خیال کیا جاتا ہے کہ ابھی بچہ ان باتوں کا شعور نہیں رکھتا۔بچہ کے کانوں میں خلاف اخلاق اور خلاف شریعت باتیں پہنچتی ہیں اور بیوقوفی سے فرض کر لیا جاتا ہے کہ بچہ ابھی ان باتوں کو نہیں سمجھتا اور نہیں جانتا۔اور اس سارے عرصہ میں ایک زہریلی فصل کا بیچ بچہ کے دل و دماغ میں بویا جا رہا ہوتا ہے۔بیشک بچہ بسا اوقات اس بیج کی مسمومیت کو نہیں پہچانتا مگر زہر پھر بھی زہر ہے اور اندر ہی اندر اپنا کام کرتا چلا جاتا ہے۔پس اولاد کی تربیت کا دوسرا سبق یہ ہے کہ ان کی ولادت کے ساتھ ہی ان کی تربیت کا خیال شروع کر دو اور خواہ وہ بظاہر تمہاری بات سمجھیں یا نہ سمجھیں تم یہی سمجھو کہ وہ تمہارے ہر فعل کو دیکھ رہے اور ہر قول کوسُن رہے ہیں۔یہ ایک نہایت لطیف نفسیاتی نکتہ ہے جو ہماری شریعت نے ہمیں سکھایا ہے اور ہر مسلمان باپ اور ہر مسلمان ماں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے متعلق اپنے تربیتی پروگرام کو اس نکتہ کی روشنی میں مرتب کرے۔دیکھو یہ ایک بہت موٹی سی بات ہے کہ جس مذہب نے یہ تعلیم دی ہے کہ خاوند اور بیوی بچہ کی ولادت سے بھی پہلے آپس میں ملتے ہوئے اپنے ہونے والے بچہ کے متعلق شیطان سے دُور رہنے اور خدا کی پناہ میں آنے کی دعا مانگیں کیا وہ بچہ کی ولادت کے بعد اُسے کئی سال تک تربیت اور اخلاقی نگرانی کے بغیر رہنے دے گا ؟ هَيْهَاتٌ هَيْهَاتَ لِمَا تَصِفُونَ قرآن ایمانی اور عملی تربیت کا مکمل ضابطہ ہے اس کے بعد بچہ کی بلا واسطہ تربیت کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔اس کے متعلق یہ سوال کہ بچے کو کیا تربیت دی جائے ایک مسلمان کے لئے طے شدہ سوال ہے۔ہماری تربیت اخلاقی اور رُوحانی بلکہ ایک حد تک جسمانی اور مالی کا بھی مکمل ضابطہ قرآن شریف میں موجود ہے جس کی عملی تفسیر رسول خدا کی سنت اور قولی تشریح احادیث صحیحہ ہیں اور اسی کے احیاء اور تجدید کے لئے ہماری جماعت کے مقدس امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔پس ہمارے لائحہ عمل کا تو کوئی سوال نہیں وہ پہلے۔سے موجود ہے اور اپنے متعلق