اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 8
16 15 اور بالآخر ہر احمدی بچے کے دل میں یہ بات بھی راسخ ہونی چاہیے کہ رُوحانی ہدایت ناموں کے علاوہ دُنیا کا مادی کارخانہ بھی خدا ہی کے بنائے ہوئے قانونِ قضا و قدر کے ماتحت چل رہا ہے خواہ وہ قانون خیر سے تعلق رکھتا ہے یا شر سے۔یہ باتیں ہر احمدی بچے کے دل میں بچپن سے ہی اس طرح راسخ ہونی چاہئیں کہ بعد کی زندگی کا کوئی طوفان خواہ وہ کتنا ہی خطرناک ہی ہو اسے اس عقیدہ سے متزلزل نہ کر سکے۔اور احمدی بچوں کے دلوں میں حسنِ قول اور حسنِ فعل کے ذریعہ یہ ایمان پیدا کرنا احمدی ماؤں کا کام ہے۔اگر پانی جیسی سیال چیز قطرہ قطرہ گر کر پتھر جیسی سخت چیز میں دائمی نقش پیدا کر سکتی ہے تو ماں کی شب و روز کی نصیحت بچوں کے دلوں میں کیوں یہ غیر فانی ایمان پیدا نہیں کر سکتی ؟ مگر آ جا کے بات وہیں آجاتی ہے کہ ماں خود نیک اور دیندار ہو۔ہمارے الله رسول ﷺ پر خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں آپ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ:- علیک بذات الدین تربت یداک یعنی اے مسلمان مرد ! تیرا فرض ہے کہ دیندار با اخلاق بیوی سے شادی کر ورنہ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلود رہیں گے۔“ عمل کے میدان میں دو بنیادی نیکیاں! ایمان کے بعد اعمال کا مرحلہ ہے جن میں سے اوپر کی آیت میں دو بنیادی عملوں کو منتخب کیا گیا ہے۔ان میں ایک نماز ہے اور دوسرے انفاق فی سبیل اللہ ( یعنی خدا کے رستہ میں خرچ کرنا ) ہے۔اور حق یہ ہے کہ یہ دو عمل حقیقہ اسلام کی جان ہیں اور باقی سب اعمال انہی دو عملوں کی شاخیں اور انہی دو نہروں کے راجبا ہے ہیں۔نماز خدا کا حق ہے جو خدا کے ساتھ بندے کا ذاتی تعلق قائم کراتا اور اس کے عظیم الشان پاورسٹیشن کے ساتھ بندے کے دل کی تاروں کا جوڑ ملا کر اس کے سینہ میں ایک دائمی شمع روشن کر دیتا ہے۔اور دوسری طرف فی سبیل اللہ بندوں کا حق ہے جس کے ذریہ نہ صرف جماعت اور قوم کے مشترکہ کاموں یعنی تبلیغ اور تعلیم وغیرہ کا بوجھ اُٹھایا جاتا ہے بلکہ امیروں کی دولت کا ایک حصہ کاٹ کر غریبوں کی حالت کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور اگر غور کیا جائے تو یہی دو باتیں یعنی نماز اور انفاق فی سبیل اللہ ساری اسلامی تعلیم کا خلاصہ ہیں۔خدا سے ذاتی تعلق پیدا کرو اور جماعتی کاموں میں حصہ لو۔دل میں خدا کی محبت کی کو لگاؤ اور خدا کے دیے ہوئے رزق میں سے قوم کا اور اپے غریب بھائیوں کا حصہ نکالو۔پھر مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ یعنی نیک لوگ ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں) کے الفاظ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ صرف اپنے مال میں سے ہی خرچ کرنے کی طرف دھیان نہ رکھو بلکہ ہر وہ چیز جو تمہیں خدا کی طرف سے رزق کے طور پر ملی ہے اس میں سے خدا کا اور بندوں کا حق ادا کرو۔اب دیکھو کہ جس طرح مال خدا کا رزق ہے اسی طرح انسان کے قویٰ بھی خدا کا رزق ہیں۔انسان کے اوقات بھی خدا کا رزق ہیں اور انسان کا علم بھی خدا کا رزق ہے پس مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ کی ہدایت کا تقاضا ہے کہ ان تمام قسم کے رزقوں میں سے خدا کا اور اس کے بندوں کا حصہ نکالا جائے۔مال میں سے زکوۃ اور صدقہ اور چندہ دیا جائے۔دل و دماغ کی طاقتوں کے ذریعہ ملک وقوم کی خدمت کی جائے۔وقت کا کچھ حصہ دینی اور جماعتی کاموں میں لگایا جائے اور خدا کے دیے ہوئے علم سے دُنیا کو فائدہ پہنچایا جائے۔