اچھی مائیں ۔ تربیت اولاد کے دس سنہری گُر — Page 12
24 23 حدیث میں آتا ہے کہ جب ایک دفعہ رسولِ خداصلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ میں کمزور ہوں اور یک لخت سارے گناہوں پر غلبہ پانے کی طاقت نہیں رکھتا آپ مجھے فی الحال کوئی ایک گناہ ایسا بتا دیں جسے میں فوراً چھوڑ دوں۔آپ نے بے ساختہ فرمایا۔” جھوٹ چھوڑ دو اور چونکہ اس کے بعد وہ اپنے گناہوں پر پردہ نہیں ڈال سکتا تھا اس لئے اس زریں ارشاد کی برکت سے وہ شخص گویا ایک ہی قدم میں سارے گناہوں پر غلبہ پا گیا۔پس احمدی ماؤں کا یہ ایک مقدس فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں میں جھوٹ سے ایسی نفرت پیدا کریں کہ خواہ کتنا ہی نقصان ہو یا کتنا ہی لالچ دیا جائے ان کے سامنے بچے ہمیشہ ایک مضبوط چٹان کی طرح سچ پر قائم رہیں۔یہ ایک ایسا بنیادی خلق ہے جو بچے کے کیریکٹر کو چار چاند لگا دیتا ہے اور سچ بولنے والے بچے کا سر کبھی نیچا نہیں ہوتا بلکہ ہر موقع پر اور ہر مجلس میں بلند رہتا ہے۔حق یہ ہے کہ احمدیت اور سچ بولنا ہم معنی الفاظ ہونے چاہئیں اور ایک شخص کا احمدی ہونا اس بات کی ضمانت سمجھی جانی چاہیے کہ وہ خود مٹ جائے گا مگر جھوٹ کا کلمہ کبھی زبان پر نہیں لائے گا۔کاش ایسا ہی ہو اور کاش احمدیت اور صداقت ہماری لغت میں مترادف الفاظ بن جائیں۔اولاد کے لئے ماں باپ کی دعائیں یہاں تک میں نے صرف ظاہری اسباب کے لحاظ سے اسلامی تربیت کا خلاصہ پیش کیا لیکن چونکہ ہر ظاہری نظام کے مقابلہ پر ایک باطنی اور رُوحانی نظام بھی ہوتا ہے اس لئے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے کمال شفقت سے اس باطنی اور روحانی نظام کی طرف بھی اپنی امت کو توجہ دلائی ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكٍّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَ دَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَ دَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلِدِهِ ( ترمذی کتاب الدعوات باب ما ذکر فى دعوة المسافر) یعنی تین دعائیں خدا کے فضل سے ضرور قبول ہوتی ہیں۔اوّل مظلوم شخص کی دُعا جو اپنے ظلموں سے تنگ آ کر خدا کو پکارتا ہے۔دوسرے مسافر کی دُعا جو وہ سفر کی پریشانیوں اور کوفتوں میں گھرے ہوئے خدا کے حضور کرتا ہے اور تیسرے ماں باپ کی دُعا جو وہ اپنے بچوں کی بہتری کے لئے تڑپ تڑپ کر کرتے ہیں۔“ حق یہ ہے کہ ماں باپ کی دُعا اولاد کے حق میں اکسیر کا رنگ رکھتی ہے کیونکہ دُعا کی قبولیت کے لئے جس قسم کے قلبی جذبہ اور ذہنی کیفیت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ماں باپ کی دُعا میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔پس تربیت کے ظاہری اسباب کو اختیار کرنے کے علاوہ اسلام یہ زرین ہدایت بھی فرماتا ہے کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے لئے ہر وقت دُعا میں لگے رہیں اور ان کے لئے خدا کے آستانہ پر گرے رہ کر دین و دنیا کی حسنات کے طالب ہوں، میں نہیں سمجھتا کہ کوئی دیندار ماں اپنی اولاد کے لئے دُعا مانگنے میں غفلت سے کام لیتی ہو لیکن اگر کوئی ماں ایسی ہے تو اس سے بڑھ کر شقاوت اور محرومی میرے خیال میں نہیں آ سکتی۔کاش احمدی مائیں دُعا کی قدر اور دُعا کی طاقت کو پہچانیں اور اس رُوحانی نسخہ کے ذریعہ اپنے بچوں کی دین و دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔یہ نسخہ بہت مجرب اور بہت پرانا ہے اور سارے نبیوں اور سارے ولیوں کا آزمایا ہوا ہے پس :- ” اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما