میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 79
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) حال سمجھتا ہوں۔ایک دفعہ عزیز و شکور کے رخصتانہ کے موقع پر میں نے کہا مشہور ہے کہ ماواں دھیاں ملن لگیاں چارے کنداں چبارے دیاں ہلیاں بیٹی کی رخصتی پر جب ماں نے بیٹی کو رخصت کرنے کے لئے گلے سے لگایا تو گھر کی چاروں دیوار میں ملنے لگیں ) تم نے پانچ بیٹیاں رخصت کی ہیں تمہارا کیا حال ہوا ہو گا۔واقعی دل گردہ تھا، برداشت تھی، حوصلہ تھا، فضل تھا خدا کی دین تھی ، فراخ دلی تھی، نیکی تھی ، تقویٰ تھا، بھروسہ تھا، دور اندیشی تھی ، معاملہ نہی تھی، محبت و شفقت تھی ،صلہ رحمی کا بے مثال نمونہ تھی۔اپنوں سے دوسروں سے گھر، پڑوس، محلہ شہر، مضافات اور دوسرے ملکوں تک اس کے حُسنِ سلوک کی کئی کئی مثالیں دے سکتا ہوں اس کا وجود با برکت تھا۔اُسے میری حلیمہ ماں برکت بی بی نے پسند کیا تھا صبر تحمل صورت وسیرت میں ممیز تھیں پھر میرے والد صاحب خدا کے فضل سے فضل محمد جن کی اُس نے بہت خدمت کی تھی۔“۔۔۔۔۔۔7 جون 1976ء 66 باری پیاری کا خط بہت ہی خوب مضامین پر ملا۔خوشی ہوئی اس میں عزیزہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ہماری امی اور ہمارا حق ہے کہ اُن کے اوصاف بیان کئے جائیں جب کہ آپ نے کڑا بند باندھ رکھا ہے۔نہیں لعل ! شوق سے سنو میرا ہر خط اُس کے اوصاف حمیدہ سے بھرا پڑا ہے۔دیکھ تو لو زندگی میں جب میں صادقہ، صابرہ شاکرہ، 79