میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 67
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر داروں سے پیدل جا کر مل کر عصر کے وقت واپس آئیں تھکی ہوئی تھیں لیکن اس کے با وجود باقی رشید کو ملنے فیکٹری ایریا چلی گئیں مغرب کے بعد واپس آئیں تو کچھ گھبرائی ہوئی تھیں پاؤں کی ایڑی میں درد تھا۔آپا لطیف کو بتا یا پھر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ربوہ میں ہمارے گھر اس طرح ہیں کہ ایک پلاٹ کے چار حصے ہیں آدھے حصے میں بھائی جان مجید کی فیملی اور امی۔ایک چوتھائی حصے میں بھائی جان باسط اور ایک چوتھائی حصے میں آپا کا گھر تھا۔گھروں کے درمیان راستہ تھا۔منگل کی صبح آپا کو بتایا کہ رات طبیعت خراب ہو گئی تھی پسینہ بہت آیا ضعف محسوس ہوا خود ہی قطروں والی دوا ڈال کر پی لی تھی آپا نے کہا آپ میرے پاس ہی ٹھہریں مگرامی اپنے کمرے میں سونا پسند کرتی تھیں جہاں معمولاً تہجد، فجر اور اشراق کی نماز ادا کرتیں۔اگلے دن حکیم فاروقی صاحب کو گھر پر بلا یا انہوں نے دوائیں دیں۔کئی عزیز ملنے آتے رہے۔جمعہ کی صبح کو مکرم مولوی محمد شریف صاحب ( مبلغ بلا د عر بیہ ) ملنے آئے ان کو خواب آیا تھا جس میں کسی نیک عورت کی وفات کی طرف اشارہ تھا آپ کا دھیان امی کی طرف گیا اور ملنے آگئے۔جمعہ کی شام بے چینی محسوس ہورہی تھی گلے پر بائیں طرف ہاتھ لگا کر بتایا کہ سانس میں مشکل ہورہی ہے۔آدھی رات کو ڈاکٹر لطیف صاحب نے آکر دیکھا۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔انجیکشن دیا اور صبح ای سی جی کرانے کا کہا۔ربوہ میں موجود تین بہنیں دو بھا بھیاں اور بچے امی جان کے پاس تھے۔اس تکلیف میں امی جان نے بڑے بیٹے مجید کو یاد کیا وہ کیا کرے گا اس کا خیال رکھنا پھر آپا حمیدہ کو یاد کیا جو ان دنوں 67