میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 66
ایک اور خط میں لکھا: شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) یہ در حقیقت میری محسنہ ہیں۔میرے ساتھ جس حسنِ سلوک سے زندگی گزاری اس کا اجر اللہ تعالیٰ ہی دے مجھ سے تو قدر نہ ہوسکی۔۔۔پیارے بچو اگر صبر اور صلوٰۃ سے کام لوتو اللہ تعالیٰ ضرور راستہ نکال دیتا ہے تقویٰ اور صبر تو آپ کی امی کا شعار ہے۔۔میرے بچوں نے اس کی گود میں ذکر الہی کی لوری لی۔باوضو خاتون کا دودھ پیا۔آپ سب بھی اس کے اوصاف اپنے اندر پیدا کریں تو درویشی میں بادشاہی کا لطف آجائے۔اپنی والدہ سے کہیں فکر نہ کریں راضی برضا رہا کریں۔“ جہانِ فانی سے رخصتی امی جان بہت حوصلے والی تھیں مگر ایک وقت ایسا آیا کہ ہم سب نے انہیں سخت متفکر و پریشان دیکھا اور ایسا اس وقت ہوا جب ابا جان کے ہاتھ پہ تکلیف دہ دانہ نکلا۔ابا جان کی تکلیف سے آپ بے چین ہو گئیں سب بچوں کو تاکید کرتیں کہ ابا جان کو زیادہ با قاعدگی سے خط لکھیں بزرگوں کے پاس جا کر دعا کی درخواست کرتیں قادیان سے مسلسل رابطہ رکھا خود وہاں جا کر تیمار داری کا فرض ادا کرنے کی خواہش مند تھیں وہ اپنے خاوند کے لیے ہی اتنی پریشان و بے قرار نہ تھیں کیونکہ انہیں وہ عملاً جوانی کی عمر میں ہی خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑ آئی تھیں یہ پریشانی و فکر ایک درویش خاوند کو ایک درویش بیوی کا نذرانہ محبت و عقیدت تھا۔بروز سوموار بتاریخ 9 / مارچ 1976 ء گول بازار کی طرف رہنے والے تین چار رشتہ 66