میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 26 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 26

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) کھڑے ہونے کی جگہ ملی۔جگہ کی تنگی کا یہ عالم تھا کہ جو جہاں تھا وہاں سے ہل بھی نہیں سکتا تھا۔ایک بہن تو سامان میں اس طرح دب گئی کہ صرف بال نظر آرہے تھے۔ٹرک چلنا شروع ہوا تو ابا جان ابراہیمی دعائیں پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔جان سے عزیز بیوی بچوں کو انتہائی مخدوش حالات میں رخصت کر رہے تھے۔اتنے میں ایک چار پائی اٹھائے ہوئے کچھ لوگ گزرے جس سے کسی زخمی یا شہید کا خون ٹپک رہا تھا۔سب کی آنکھوں میں آنسو تھے ٹرک کی رفتار قدرے تیز ہوئی ابا جان ان آنسوؤں کی دھند میں آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ابا جان پہ کیا گزری بعد میں پتا چلا کہ اسی دن قادیان پر حملہ ہوا تھا۔ابا جان اور بڑے بھائی گولیوں کی زد سے بال بال بچے تھے گھر کا سامان لوٹ لیا گیا تھا۔ابا جان نے لکھا: ” بیوی بچوں کو بھیج کر گھر واپس آئے تو عجیب وحشت پھیلی ہوئی تھی۔میرا بڑا بیٹا عبدالمجید نیاز میرے ساتھ تھا۔خالی گھر میں سامان بکھرا پڑا تھا۔چاہت سے خریدا ہوا لکڑی کا فرنیچر جس میں اخروٹ کی لکڑی کی چیزیں بھی شامل تھیں تو ڑتوڑ کر پناہ گزینوں کو چولہا جلانے کے لئے دے رہے تھے۔باہر کر فیو لگا ہوا تھا۔دار الفتوح کے جس مکان میں ہم رہتے تھے۔اُس کے نیچے کی دوڈ کا نیں باٹاشو اسٹور والوں نے کرایہ پر لے رکھی تھیں۔شام کے وقت ملٹری کے سپاہی آئے گھر کے ارد گرد پہرہ لگا دیا۔دو آدمی باٹا شوز اسٹور کھول کر اندر آ گئے اور اندر سے کنڈی لگا کر اپنی پسند کے جوتے بوریوں میں 26