میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 25 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 25

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) میں ایسا اشارہ بھی ملا تھا کہ ہجرت ہوگی۔ایسے بے یقینی کے حالات میں آپ نے رضائے الہی کی خاطر قادیان میں ٹھہرنے کا اور اپنے بیوی بچوں کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا اس طرح ایک ہنستا بستا گھرانا دولخت ہو گیا۔جماعت کے لیے قربانی اور جدائی کو قبول کرنے والے کوئی الگ مخلوق نہیں ہوتے جذبات میں اٹھنے والے منہ زور طوفانوں کو خدا کی طرف رخ پھیر کر آنسوؤں سے ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے۔جدائی اور صبر کا جو سفر شروع ہوا تھا اس کی طوالت اور سختیوں کا اندازہ نہیں تھا۔اس وقت امی جان کی عمر صرف پینتیس سال تھی گھر سے باہر کے کاموں کا کوئی تجربہ نہ تھا۔پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے تھے تیسرا بیٹا کو کھ میں تھا سب سے بڑی بچی ہیں سال کی اور چھوٹی تین سال کی تھی۔گھر کا ماحول ایسا تھا کہ لڑکیوں کا ماں باپ کی نگرانی کے بغیر زیادہ باہر نکلنا نہیں ہوتا تھا۔مگر ایسی مجبوری آن پڑی کہ اللہ سے فریاد کر رہے تھے کہ کسی طرح کوئی بیوی بچوں کو لے جائے۔ابھی بھی دھندلی سی یاد ہے۔امی صبح سویرے ہمیں لے کر ایک سڑک کے کنارے بیٹھی ہوئی تھیں کہ کوئی سواری مل جائے۔خوش قسمتی سے مکرم کیپٹن عمر حیات صاحب اور مکرم اشرف نسیم صاحب نے ٹرک کا انتظام کیا ہوا تھا ٹرک آیا اس پر انسان اور سامان کی گٹھڑیاں بری طرح لدی ہوئی تھیں۔منتظمین انسانوں کو زیادہ سے زیادہ سوار کرنے کے لیے جگہ بنانے کی کوشش میں تھے اسی تگ و دو میں یکے بعد دیگرے ہم کسی نہ کسی طرح سوار ہو گئے بچوں کو کسی نے نیچے سے اُچھالا اور اوپر کسی نے دبوچ لیا۔بھائی جان عبد الباسط کو ڈرائیور کی سیٹ کے ساتھ پائدان پر 25