میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 8
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک۔جدائی ،صبر بات پر حیران ہو گیا کہ بچہ بڑے بڑے سوال آسانی سے زبانی ہی حل کرتا جارہا ہے۔استاد صاحب نے شاگرد کو اپنی خوشنودی سے نوازتے ہوئے بازار سے تمباکو خرید کر لانے کی خدمت تفویض کر دی۔اس خدمت کے دوران امتحان کا وقت نکل گیا یا یوں کہہ لیں کہ قدرت نے لائن تبدیل کر دی۔مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے ساتھ جگہ ملی۔ایک بزرگ استاد کلاس میں داخل ہوتے ہی پیارومحبت کے اظہار کے طور پر پچھلے بینچ پر بیٹھے طالبعلموں کو ایک ایک ہاتھ رسید کرتے ہوئے آگے نکل جاتے۔یہ حسنِ سلوک عجیب لگا۔والد صاحب سے ذکر کیا۔انہیں اپنے کاروبار میں ایک مددگار کی ضرورت تھی۔بڑے بھائی مدرسہ احمدیہ میں ہی پڑھ رہے تھے۔فرمایا: ” بیٹا تم کاروبار میں میری مدد کیا کرو۔“ اس طرح چھوٹی عمر میں ہی کا روباری ذمہ داریاں سنبھال لیں۔میاں عبدالرحیم صاحب جب اکیس سال کے ہوئے تو 1924 ء میں ان کا نکاح آمنہ بیگم صاحبه بعمر انداز پندرہ سال سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے قادیان میں پڑھایا۔شادی خانہ آبادی 26 جنوری 1925ء کو ہوئی۔بارات شہر سے گاؤں لے کر جانے کے لیے بس کرائے پر لی گئی اُس زمانے میں یہ انوکھی بات تھی۔عرصے تک چر چا رہا۔گاؤں گئے تو معلوم ہوا کہ باراتیوں کے لیے کھانا ہند و باورچیوں سے بنوایا گیا ہے۔کچھ تر ڈد کا اظہار کرنے پر سارا کھانا وہاں کے مقامی لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا۔کھانا نئے سرے سے مسلمانوں سے پکوایا گیا۔گاؤں کی آن پڑھ کم عمر دلہن جو حسن فطرت اور حسن تربیت سے مزین تھی فضل منزل میں ایک بھرے 8