میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 4
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ابا جان امی جان کی کہانی کا ایک مآخذ ابا جان کے خطوط ہیں۔یہ خط عام طور پر بڑے بہن بھائی کے نام ہوتے ابا جان کی شکستہ پختہ تحریر پڑھنے میں امی جان کو دقت ہوتی دوسرے وہ خود جواب نہ لکھ سکتی تھیں اس لیے یہ ایک طرح کے کھلے خط تھے۔اس میں امی جان کے نام پیغام ہوتے جواب بھی بچے ہی لکھتے۔اس خط و کتابت اور پھر اس کی حفاظت کے لیے میں اپنی امی جان اور بڑے بہن بھائیوں کی شکر گزار ہوں۔جب یہ خطوط پڑھتی ہوں تو لگتا ہے کئی زندگیاں اپنے والدین کے ساتھ گزاری ہیں۔یہ ایک جانی ہوئی حقیقت ہے کہ مخطوط میں انسان تمام تر سچائی اور خلوص کے ساتھ دل کھول کے رکھ دیتا ہے۔تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی ان خطوط میں سچے ، کھرے، حقیقی، بے لاگ جذبات کا ایک جہان ہے جو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔دوسرا مآخذ ابا جان کی تحریر کردہ یادداشتیں ہیں اور تیسرا گھر اور خاندان کے بڑوں کی باتیں پھر اپنا مشاہدہ ہے۔ان سب کو چشم تصور سے یک جا کر کے ایک سوانح مرتب کی ہے۔اللہ تعالیٰ میرے والدین کے درجات بلند فرماتا رہے۔آمین۔شادی مکرمہ آمنہ بیگم صاحبہ حضرت حکیم اللہ بخش صاحب کی بیٹی تھیں جو ہتے ہالی (مشرقی پنجاب) نامی گاؤں میں رہتے تھے۔آپ مشہور علم دوست شخصیت تھے۔سکول ٹیچر تھے۔پنجابی شاعر کی حیثیت سے معروف اور مقبول تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے، آپ کے دعوی سے پہلے کے عقیدت مند تھے۔قادیان کے صحابہؓ کی 4