میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 47
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) ذریعہ بنے۔خاکسار کو یاد ہے سکول کالج میں جب ہمارا نتیجہ آتا خوشی خوشی حضرت میاں صاحب کو دکھانے جاتے۔آپ بڑی شفقت سے پیش آتے۔اگلی کلاس کی فیس بھی معاف کر دیتے ہماری تعلیمی ترقی سے باخبر رہتے۔اور ابا جان کو اطلاع بھی دیتے۔الحمد لله بچوں کے رشتے کرنے میں بھی امی جان آپ سے مشورہ کرتیں گھر میں پہلی شادی بڑی بہن لطیف آپا کی تھی۔جب آپا کا مکرم شیخ خورشید احمد صاحب سے نکاح ہو اس سال پہلی دفعہ جلسہ سالانہ پر پاکستان سے محدود تعداد میں شاملین کو جانے کی اجازت ملی تھی۔آپ نے ہم بہن بھائیوں اور امی جان کو بھجوانے کی بجائے شیخ صاحب کو بھجوایا اور ابا جان کو خط لکھا کہ میں آپ کے داماد کو بھجوا رہا ہوں میرا خیال ہے آپ کو ان سے مل کر زیادہ خوشی اور اطمینان حاصل ہو گا یہ بعض لحاظ سے آپ کے لیے بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔آپا لطیف کی شادی 1951ء میں ہوئی۔گلشن عبدالرحیم اور آمنہ میں یہ پہلی شادی تھی۔جذبات میں تموج قدرتی تھا اللہ تعالی اور اس کے پیارے بندوں نے سہارا دیا۔نکاح حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے پڑھایا اور رخصت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور خاندان حضرت اقدس کے کئی محترم خواتین و حضرات فرما رہے تھے۔الحمد لله ایک واقعہ آپا لطیف نے بتایا کہ جب ربوہ میں زمینیں الاٹ ہونے لگیں تو یہ سنا تھا کہ زمین اور مکان بنانے کے لیے رقم جمع کرانی ہوگی۔آپ حضرت میاں صاحب کے 47