میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 48
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) پاس گئیں کہ زمین کی قیمت ہم کسی نہ کسی طرح جمع کرا دیں گے لیکن مکان کی رقم مشکل ہوگی۔آپ نے فرمایا کہ زمین کی رقم جمع کرا دو مکان بھی بن جائے گا۔تم لوگ گارا بنا دینا۔میں اینٹیں لگا تا جاؤں گا۔الحمدللہ کیسے شفقت کے نظارے دیکھے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مکان بھی بنواد یا واقعی ایسے سامان ہوا جیسے فرشتے مددکر نے آگئے ہوں۔(مصباح قمر الانبیاء نمبر صفحہ 73) باجی رشید ایک نوعمر بچی تھیں کسی کام سے آپ کے گھر گئیں۔فرمایا: کھانا کھا لو۔”جی میں کھانا کھا کر آئی ہوں۔“ باجی نے بصد ادب جواب دیا۔آپ نے دریافت فرمایا : کیا کھایا تھا۔عرض کی : کھمبیاں“ آپ نے فرمایا: ”ابھی جاؤ اور میرے لیے بھی لاؤ مجھے بہت پسند ہیں۔حضرت امان جان برسات میں ضرور چکھا یا کرتی تھیں۔ہے تو چھوٹی سی بات لیکن دلداری کے کئی پہلو دیکھے جاسکتے ہیں۔کمال ذرہ نوازی بظاہر دوری مگر قدم قدم ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمارے خاندان کو دوری کے باوجود قرب کے احساس سے نوازا یہ سب ہمارے والدین کے قلبی تعلق سے ممکن ہوا۔امی جان ہر کام ابا جان کی اجازت سے کرتیں اور اگر خود کوئی فیصلہ کرتیں تو ابا جان کو مطلع کرتیں۔ابا جان اپنے خطوط کے 48