میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 41
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) زمانہ شروع ہو گیا حالات ایک دم پلٹ گئے۔فقر وفاقہ و درویشی میں مخمل کے جوڑے کا وعدہ تو یا در با استطاعت نہ رہی۔کبھی اتنی رقم نہ ہوئی کہ وعدہ پورا کر سکتے ہر محنت کے کام کے ساتھ یہ تصور ابھرتا اور ڈوبتارہا۔پھر ایک کھدر کی قمیض بھیجی ساتھ ملا لکھا کہ غریب کے لعل فی الحال اس کو مخمل سمجھ لو اور ساتھ آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی دعا ئیں تھیں۔جو ساری عمر ساتھ رہیں۔ابا جان کا تو کل، قناعت، سادگی ایسا درس تھا جس نے اسی دنیا کو جنت بنا دیا جو ہزار محمل کے جوڑوں سے زیادہ قیمتی ہے اللہ تعالیٰ میرے ابا جان کو غریق رحمت فرمائے۔آمین۔معجزانہ ملاقات کی صورت۔۔۔۔۔4 اپریل 1950ء اللہ پاک نے ابا جان سے ایک معجزانہ ملاقات کی صورت پیدا کی۔ہوا یوں کہ بعض درویشوں کے اہل وعیال قادیان واپس جا رہے تھے۔آپا جان انتظامی امور کے سلسلے میں ان کے ہمراہ لاہور گئیں ان کے ساتھ بھائی جان عبدالباسط بھی تھے انہوں نے کوشش کی کہ ابا جان کو پتہ چل جائے کہ ہم بارڈر تک جا رہے ہیں کسی طرح ابا جان بھی آجائیں تو ملاقات ہو جائے بارڈر پر پہنچ کر قادیان سے آنے والے درویشوں کو پوچھا کہ ابا جان کو ہمارے یہاں آنے کی اطلاع ہے یا نہیں۔کوئی درویش اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔فضل الہی خان صاحب نے کہا کہ جب میں قادیان سے آیا ہوں تو تمہارے ابا کام میں مصروف تھے۔اور لگتا ہے کہ انہیں آپ کے آنے کی کوئی خبر نہیں 41