میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 24 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 24

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) ہوتا ہے۔ہم سردیوں میں ایک کمرے میں دیواروں سے لگی چار پائیوں پر سوتے صبح جب آنکھ کھلتی درمیان کی خالی جگہ پر پتھر کے کوئلوں کی دیکتی ہوئی انگیٹھی ہوتی جو ابا جان نماز کے لیے جانے سے پہلے سلگا جاتے اور واپسی پر کمرے میں لے آتے۔کمرہ گرم ہو جاتا پھر اسی کمرے میں سب بچے وضو کر کے نماز اور قرآن مجید پڑھتے اباجان درس دیتے، کوئی کتاب پڑھ کر سناتے۔آخری کتاب جو ہجرت سے پہلے ابا جان سنا رہے تھے وہ سیرت حضرت ام المؤمنین تھی۔پھر سب مل کر ناشتہ کرتے۔ابا جان کھانے کی بہت لذیذ چیزیں لے کر آتے تھے۔تقسیم برصغیر کے بعد قادیان کے احمدیوں کے لیے تقسیم برصغیر ایک بہت بڑا انقلاب لے کر آئی۔قیامت جیسا ہوش ربا ، ہولناک وقت تھا۔قادیان چھوڑنے کے فیصلے پر مجبور کرنے والے واقعات بہت دردناک تھے۔قادیان کے اردگرد کے گاؤں دیہات سے ہزاروں افراد قادیان کو نسبتا محفوظ سمجھتے ہوئے قادیان آگئے۔کچھ خاندانوں نے بالکل ہمارے گھر کے سامنے ڈیرہ ڈال لیا۔بالکل بے سروسامانی اور کسمپرسی کی حالت دیکھ کر ابا جان نے انہیں اجازت دے دی کہ ہمارے گھر آ کر روٹی پکا لیا کریں۔گھر سے مرتبہ اچار سالن وغیرہ مہیا کر دیا جاتا۔ایک دن اُن خواتین کو آنے میں کچھ دیر ہو گئی استفسار پر علم ہوا کہ اُن کی دو جوان لڑکیاں سکھ اُٹھا کر لے گئے ہیں۔اس خبر کے بعد جان و آبرو بچانے کے لیے بیوی بچوں کو قادیان سے رُخصت کرنا ضروری ہو گیا۔ابا جان کو خواب 24