میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 89
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ہوتا رہا۔ازاں بعد ان کے عزیزان انہیں بغرض علاج و خدمت گزاری اپنے ہمراہ پاکستان لے گئے جہاں ہر ممکن علاج اور خبر گیری کی جاتی رہی مگر افسوس کہ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی بالآخر تقدیر الہی غالب آئی اور مرحوم بھائی جی ہمیشہ کے لئے اس دار فانی کو چھوڑ کر دار قرار میں جامکین ہوئے۔مرحوم نے اپنے پیچھے نہایت ہونہار، تعلیم یافتہ اور سلسلہ کے ساتھ اخلاص و محبت رکھنے والی جو اولاد بطور یادگار چھوڑی ہے ان میں مرحوم کے تین فرزند مکرم عبدالمجید صاحب، مکرم مولوی عبد الباسط صاحب مربی سلسلہ اور مکرم عبد السلام صاحب نیز مرحوم کی پانچ بیٹیاں، محترمہ امتہ اللطیف صاحبہ ایڈیٹر ماہنامہ مصباح محترمہ امۃ الرشید صاحبہ، محترمہ امتہ الحمید صاحبہ محترمہ امتہ الباری صاحبہ اور محترمہ امۃ الشکور صاحبہ شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے جذبہ اخلاص اور قربانیوں کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے انہیں اپنے قرب خاص میں بلند درجات سے نوازے اور تمام پسماندگان کو اس گہرے صدمے کو پورے صبر وقتل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔“ (ایڈیٹر بدر ) وہ پھول جومرجھاگئے محترم بدرالدین عامل صاحب اپنی کتاب ”وہ پھول جو مرجھا گئے“ حصہ دوئم میں لکھتے ہیں کہ: 1942ء میں پہلی دفعہ وہ میاں عبدالرحیم صاحب کے ساتھ تبلیغی ٹرپ پر 89