میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 88
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ،صبر کی دکان کھولی اور پھر اپنی انتھک محنت ،لگن اور تندہی کے باعث اس چھوٹے پیمانے کے کاروبار سے انہوں نے قادیان میں ایک معقول جائیداد بنائی جو تقسیم ملک کے بعد قادیان میں بحیثیت درویش قیام رکھنے کے باوجود محکمہ کسٹوڈین نے اپنے قبضہ میں لے لی اور ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کے باوجود واگزار نہیں کی۔آپ نے اس نقصان کو نہایت صبر و تحمل اور خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا اور حسب معمول اپنی ذمہ داریوں اور عہد درویشی کو انتہائی صدق وصفا اور اخلاص کے ساتھ نبھاتے رہے۔مرحوم نہایت درجہ نیک متقی ، پابند صوم وصلوٰۃ عبادت گزار اور دعا گو بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی دوسری خوبیوں کے بھی مالک تھے۔طبیعت نہایت درجہ سادگی پسند اور نرم خو واقع ہوئی تھی۔ہر فن مولا ہوتے ہوئے بھی محنت و مشقت سے کبھی عار محسوس نہ کی حضرت اقدس مسیح پاک سے متعلق بہت سی ایمان افروز روایات جو انہوں نے اپنے والد محترم اور سلسلہ کے دوسرے بزرگان کی زبانی سن رکھی تھیں اپنے حلقہ احباب میں بڑے دلچسپ اور روح پرور انداز میں بیان کرتے بیشتر مذہبی اور متنازعہ مسائل پر عبور رکھنے کے باعث طبیعت میں تبلیغی جذ بہ وشوق بھی کارفرما تھا جس کی بنا پر بار ہا تحریک وقف عارضی کے تحت دور دراز علاقوں کے تبلیغی سفر بھی اختیار کئے اور زمانہ درویشی میں عرصہ قریباً آٹھ نو ماہ تک لوکل انجمن احمد یہ میں بطور سیکریٹری تبلیغ و تربیت خدمات بھی بجالاتے رہے۔قریباً 8-9ماہ قبل بیماری کا شدید حملہ ہونے پر بغرض علاج اسپتال امرتسر میں داخل کیا گیا جہاں تشخیص سے معلوم ہوا کہ ملٹی پل میلوما ہو چکا ہے۔کافی عرصہ امرتسر میں علاج 88