میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 77
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) کوئی رو رہا تھا ایک بزرگ نے پوچھا کیوں رو ر ہے ہو فر مایا میرا دوست فوت ہو گیا ہے۔جواب دیا پھر آپ نے فوت ہونے والے کو دوست بنایا کیوں تھا۔سوجس قدر، جتنا عرصہ، جب تک خدا نے اور جس مطلب کے لئے خلق کیا تھا پورا کر لیا۔تو ہر شے اس کے بعد جب وہ کام کر لیتی ہے سنبھال لی جاتی ہے۔بعض لوگ جن پر میں حیران ہوں لکھتے ہیں صحت اچھی تھی۔پھر لکھتے ہیں جلدی فوت ہو گئی۔نہیں میں تو خدا کا شکر کرتا ہوں جس نے اتنا بڑا انعام شدید ترین ماحول میں بھی اتنا عرصہ دئے رکھا میں عرصہ دراز سے اُن کی اور صفات کے ساتھ صابرہ بھی لکھا کرتا تھا سو خدا نے اس کو اس کی رضا پر صبر کرنے کے نتیجے میں بہت زندگی دی۔الحمد للہ۔میں نے آپ سے کئی بار اور دوسروں کو بھی تحریر کیا ہے کہ میں تو پہلے سے ایسے حادثہ کی خبر سننے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتارہتا تھا۔اکتوبر ہمارے خاندان کے لئے اور باقی سال سے ذرا تکلیف دہ ہوا کرتا ہے جب ہی ہم سب یعنی ہماری والدہ مقدسہ بھی اور والد صاحب بزرگوار بھی اس ماہ میں صدقہ خیرات اور حفظانِ صحت کا زیادہ خیال رکھتے۔اور رکھنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔میں بھی دسمبر میں علیل ہوا پھر جنوری میں زیادہ ہی علیل ہو گیا پھر میں نے جلدی جلدی اپنی خوابوں کی بناء پر روز دوسرے چوتھے باخذ رسید اور خاموش صدقہ دینا بھی شروع کر دیا مگر اس طرف خیال جاتا ہی نہ تھا کہ ہونا یہ ہے۔میں نے ان کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔4 مارچ 1976 ء کولکھا گرم سرد کپڑے میرے پاس کافی ہیں ہاں ایک اچھی سی خوبصورت گرم چادر کی کمی ہے میں نے سب سے قیمتی جو اُس وقت اُس دکان 77