میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 69 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 69

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ،صبر تجهیز و تکفین و تدفین وہ اپنے ہاتھوں سے کریں مگر جب اس کا وقت آیا وہ افریقہ میں تھے۔امی جان نے انہیں اللہ کے حوالے کیا ہوا تھا۔جب پاکستان سے روانہ ہور ہے تھے تو بھا بھی جان محمودہ صاحبہ کے چہرے پر اداسی دیکھ کر امی جان نے کہا تھا کہ میں بوڑھی ہو چکی ہوں زندگی کا کوئی اعتبار نہیں تاہم اسے اللہ پاک کی رضا کے لیے ہمت سے روانہ کر رہی ہوں۔تم بھی ہمت سے کام لو۔اس طرح امی جان نے اس بیٹے کو پہلے ہی الوداع کہہ دیا ہوا تھا۔اور فی سبیل اللہ وقف بیٹے کے لیے کسی بے چینی اور گھبراہٹ کے اظہار کی ان کے پختہ ایمان اور یقین کے ساتھ کوئی مناسبت نہ ہوتی۔امی جان کے حجاب و حیا پر مہر کرتا ہوا یہ واقعہ بھی یاد آتا ہے کہ جب آخری بار منہ دیکھنے کے لیے رشتہ داروں کو بلایا گیا تو مکرم چچا جان صالح محمد صاحب نے کہا میں بھابھی کے لیے دعا کروں گا مگر منہ نہیں دیکھوں گا انہوں نے ساری عمر حیا داری اور پردے میں گزاری ہے۔اس کا مان رکھوں گا۔اعلان وفات الفضل ربوہ نے ذکر خیر کیا: افسوس کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم میاں عبدالرحیم صاحب دیانت درویش قادیان دل کے عارضہ سے نہایت مختصر علالت کے بعد 13 / مارچ بروز ہفتہ صبح ساڑھے سات بجے بعمر 67 سال ربوہ میں وفات پا کر محبوب حقیقی سے جاملیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔69