میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 5
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) فہرست میں آپ کا نام درج ہے: ”مولوی اللہ بخش صاحب دربان ولد میاں شاہ دین صاحب ہے ہالی ضلع و تحصیل گورداسپورسن بیعت 1905 سن زیارت 1880ء 6 ( تاریخ احمدیت جلد ششم صفحه (141) رجسٹر روایات صحابہ میں بھی آپ کی روایات درج ہیں۔احمدیت قبول کرنے کے حالات پر ایک طویل پنجابی نظم کہی جو ایک تبلیغی دستاویز اور اس زمانے کے حالات کی عکاس ہے۔حکیم صاحب کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔آمنہ بیگم سب سے چھوٹی تھیں۔حکیم صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور قادیان سے بہت پیار تھا۔احمدیت کی لذت سے آشنا ہو چکے تھے۔بچی پیدا ہوئی تو سوچا کہ اس کی شادی احمدیوں میں کریں گے اس خیال سے اُن کا دھیان ایک احمدی دوست میاں فضل محمد صاحب کی طرف گیا جن کے ہاں نو عمر بیٹا تھا۔اُن کو اپنی نوزائیدہ بیٹی کے لیے مناسب رشتہ مل گیا۔حضرت منشی جھنڈے خان صاحب کو پیغام دے کر قادیان بھیجا کہ جا کر فضل محمد صاحب کو ہمارا سلام کہیں اور یہ پیغام دیں کہ آپ کا جو بیٹا عبدالرحیم ہے وہ آج سے ہمارا ہوا۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔منشی صاحب سے حکیم صاحب کا پیغام سن کر میاں فضل محمد صاحب نے کہا: " جزاکم اللہ احسن الجزاء۔میں لڑکے کی والدہ کو آپ کے گاؤں بھیجوں گا۔“ اس طرح اس رشتے کی بنیاد صرف اور صرف احمدیت کی محبت پر رکھی گئی۔5