میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 55 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 55

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) تیار کیا ہوا گاڑھا دودھ ڈالتے پھر ہمارے مزے لے لے کر کھانے سے لطف لیتے۔جو بے تکلف مہمان اور رشتے دار ملنے آتے انہیں بھی باورچی خانے میں ہی بلا لیا جاتا ملاقات ہو جاتی اور کھانا بھی پیش کر دیا جاتا۔یہ انتظام بڑا آرام دہ تھا۔ابا جان ربوہ کی ترقی دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔مساجد میں جاتے پرانے ملنے والے قادیان کی یادیں تازہ کرتے۔قادیان کے حالات سنتے دونوں طرف تشنگی تھی جو ان ملاقاتوں سے سیرابی میں بدل جاتی۔جس دن حضرت خلیفہ السیح الثانی پر حملہ ہوا تھا ابا جان مسجد مبارک میں موجود تھے۔بہت تکلیف میں تھے۔رقت انگیز لہجے میں بآواز بلند قرآنی دعائیں پڑھتے اور ہمیں بھی دعاؤں کی تلقین کرتے۔امی جان کا ذوق عبادت اور قبولیت دعا امی جان کا دعا کا اپنا انداز تھا۔دعا میں ہلکی سی گنگناہٹ جیسی آواز آتی۔تضرع اور عاجزی سے نماز پڑھتیں ان کے چہرے پر ایک تقدس تھا۔سفید ململ کا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھتیں۔تہجد کی پابند تھیں۔اشراق کے نوافل بھی ادا کرتیں۔ان کی سجدہ گاہ پتا نہیں ان کی کون کون سی مناجاتوں اور درد کی داستانوں کی امین تھی۔ان کے روزمرہ کے کاموں کی تقسیم اوقات ایسی ہوتی کہ عین نماز کے وقت وہ جائے نماز پر ہوتیں نماز کے وقت سے پہلے ہی تیار ہو کر انتظار میں دعائیں پڑھتی رہتیں۔رمضان المبارک کا بہت اہتمام کرتیں نماز ، درس القرآن، نماز تراویح سحری افطاری، گھر میں اور محلے میں قرآن پاک کے دور میں ہر جگہ شوق سے جاتیں۔اہتمام سے اعتکاف بیٹھتیں۔میرے میاں 55