میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 50
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک۔جدائی ،صبر کیوں عیاں ہے چہرہ پرنور سے یہ اضطراب اے مری سرمایہء صبر و قرار اچھی تو ہو چاند سے چہرے پہ کیوں افسردگی کا ہے دھواں قلب نازک پر ہے یہ کیسا غبار اچھی تو ہو آپا کی شادی کے موقع پر ابا جان نے ہر جذباتی ریلے کا رخ محمد والکر کی طرف پھیر دیا۔امی کو نصیحت کی کہ شادی پر زیادہ خرچ نہ کرنا۔سادگی سے بغیر کسی قسم کے تکلف کے رخصت کرنا۔قرض نہ لینا۔سلسلے سے نہ مانگنا اگر کوئی میری بچی کو طعن دے گا تو خدا کی خاطر، میری خاطر برداشت کر لینا۔بیٹی کو نصیحت کی: دولعل میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو بہت بہت بابرکت کرے۔آمین۔ہوسکتا ہے آپ کو خیال آئے کہ ابا نہیں بھائی موجود نہیں۔میں آپ کی طرف سے پرامید ہوں کہ کمال حوصلہ برداشت اور ہمت و استقلال سے خدا تعالیٰ کی مدد طلب کرتے ہوئے اس کی رضا کی خاطر اچھا نمونہ پیش کرو گی۔اور خود وہ دن کیسے گزارا پندرہ اکتوبر 1951 کو دن بھر جب دل بھر ا دروازہ بند کر لیا۔آنسوؤں سے ہلکا کیا خوشی بھی تھی خاندان کے افراد کی شمولیت باعث رحمت ہے۔آپ خود خاص طور پر حضرت اقدس کے حضور حاضر ہو کر میری طرف سے سلام کے بعد اُن کی شفقت ، مدد اور 50