میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 49 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 49

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جدائی بصبر ) ذریعے سب حالات سے باخبر رکھتے۔۔۔۔۔21 /اگست 1951ء ”میری رفیقہ حیات میری دکھیا پر دین! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ شدید گرمی کا موسم ہے بارش ہوئے دیر ہوگئی دھوپ میں کام کرتے ہوئے سر سے پیر تک پسینہ بہتا ہے۔مگر باوجود پسینے اور تلملا ہٹ کے طبیعت پر بوجھ نہیں بلکہ لطف ہے سبحان اللہ ایک ہی کام میں سکھ بھی ہے دکھ بھی۔کتابیں اس لئے بھیجتا ہوں نایاب ہیں چھپیں گی تو دنیا کو فائدہ ہوگا دوسرے خرچ کی مشکل ہو تو فروخت کر لینا۔ہم نہ رہے تو کام آئیں گی۔بچوں کے لئے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ ان کو والدہ کی فرمانبرداری کی توفیق دے اور نیک متقی اور صالح بنائے وہ قادر ہے میری جان عجیب مشکل میں ہے چاہتا ہوں بیوی بچے اچھی ستھری زندگی گزاریں مگر حالات کہتے ہیں صرفہ کریں۔میری رفیقہ ! آپ کو یاد ہے کپڑے کی دکان سے سب سے اعلیٰ کپڑا خرید تا تا کہ آپ اچھا سے اچھا پہنیں اور ہم دیکھیں۔میں نے کچھ اشعار کہے ہیں : اے مری روح رواں اے میری جان اچھی تو ہو مخزن مهر و وفا کی تاج دار اچھی تو ہو نرگسی آنکھیں ہیں کیوں یوں اشک بار اچھی تو ہو ہے طبیعت میں یہ کیسا انتشار اچھی تو ہو 49