میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 36 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 36

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) 14 / جنوری 1949ء ” میری خوش اسلوب پاک دامن رفیقه! آپ نے وعدہ کیا تھا کہ محسر یسر میں میرا ساتھ دیں گی۔اب نبھانے کا وقت آ گیا ہے۔میں اپنے بعض فرائض دوری کی وجہ سے ادا نہیں کر سکتا وہ بھی آپ ہی کو کرنے ہیں۔میرا قطعاً انتظار نہ کریں۔آپ اہلِ بصیرت ہیں قوت فیصلہ بھی ہے۔ہر کام میں حضور اور حضرت میاں صاحب سے مشورہ لیں۔اللہ تعالیٰ راہنمائی فرمائے۔آپ کے اداس ہونے کی کیا وجہ ہے اگر میری جدائی حیران کرتی ہے تو حضرت خنساء کی مثال سامنے رکھیں اگر عورتیں لڑتی جھگڑتی ہیں تو ان سے کنارہ کش رہا کریں۔اگر کوئی وجہ تسکین نہ ملے تو میری مثال اپنے وجود پر اثر انداز کریں۔کہ میں نے آپ کا کبھی ایک رات بھی کسی جگہ ٹھہر نا پسند نہیں کیا تھا۔مگر اب خدا کی خاطر، اپنی بھلائی کی خاطر خیال بھی نہیں آنے دیتا۔بچوں کو اور اُن کے والدین کو جب پیار کرتے دیکھتا ہوں تو اگر فضل خدا نہ ہو تو صبر کیسے آئے ایک دن ایک ماں اپنی بچی کو پوچھ رہی تھی کس کی بیٹی ہو۔ماں کی پیانانی کی۔۔۔مجھے معا شکور یاد آ گئی آبدیدہ ، سینہ پر ہاتھ رکھ کر گھر آ گیا۔آج جمعہ ہے صبح بیت الدعا میں آپ سب کے لئے نام بنام دعائیں کیں۔صبح اجتماعی دعا کے بعد واپس آیا ہوں۔اعلان دعا کا بورڈ پر لکھا فرداً فرداً بھی بہت عاجزی سے دعا کے لئے کہا۔چائے تو نماز سے قبل ہی بنالی تھی وقار عمل سے پہلے پی لیتا ہوں ایک روٹی چھ بجے ناشتہ کے لئے ملتی ہے۔چائے کے گھونٹ سے کاٹ کاٹ کر کھا لیتا ہوں۔36