میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 34
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جدائی بصبر ) قربانی کی ہے اُسی سے راہ ربط رکھیں گے۔اُم سلام آپ پر سلام، ہزار سلام۔آپ نے میری غمگساری کی۔میری دینی و دنیاوی حالت کو چار چاند لگا دیئے۔مجھے آپ سے ہمیشہ راحت و آرام ملا۔آپ نے مجھے ہر لغزش کے وقت تھام لیا۔تیمار داری کی تو جان پر کھیل گئیں میرے لواحقین اور دوستوں سے جو حسنِ سلوک کیا تا زیست نہ بھولے گا آپ کے لطف وکرم اور پاک دامنی کی چادر نے میری پردہ پوشی کی۔کیا فائدہ اب ایسی باتوں سے کچھ آپ پریشان ہوں گی کچھ میں آنسوؤں سے لا چار ہوں گا۔میرا قرض اُتر گیا ہے۔ایک کھدر کی قمیض چھ آنے سلائی دے کر سلوائی ہے ایک ملیشیا سفید ٹاٹا کا جو مضبوط اور موٹا ہوتا ہے سلنے کو دے رکھا ہے۔سردی لگتی تھی۔کافی سردی ہے۔آج صبح دم دار ستارا نکلا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد کی خدمت میں میر اسلام اور درخواست دعا پہنچادیں۔“ 1948۔۔۔۔۔۔” میری ہاجرہ! میرا پنسل سے پرزوں پر لکھا ہوا خط ایک درویش کی طرف سے ہے۔میں آپ کو اللہ کے حوالے کرتا ہوں آقا کی خدمت میں سلام کہنا اور حضرت اماں جان کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کر کے سلام اور دعا کی درخواست کرنا۔مومنانہ شان سے بہادری اور جرات سے دن گزاریں۔آپ کا بچوں کی تربیت کرنا ان کا خیال رکھنا بھی جہاد ہے اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔خوابوں میں ملاقات ہو جاتی ہے۔“ 34