میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 33
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) بیوی بچوں کی جدائی پر صبر ابا جان کے خطوط میں سے کچھ اقتباس حاضر ہیں جن پر کچھ اضافہ کرنا آسان نہیں :۔۔۔۔۔11 / پریل 1948ء اب قادیان کی ویرانی اور سنسانی سوہان روح ہو کے رہ جاتی ہے۔دور اول کے صحابہ کرام کی قربانیاں یاد آتی ہیں۔بدری صحابہؓ کا نمونہ سامنے رکھتے ہیں۔خود کو کاموں میں مصروف رکھتا ہوں ہمارے نگران کہتے ہیں جس کام کے لئے اس کو بلاتے ہیں اس کے شایان شان نہیں ہوتا یہ الگ بات ہے کہ یہ ہر کام میں فٹ ہو جاتا ہے۔خدمت کا آغاز کر دیا ہے انجام خدا جانے۔میرے لئے دعا کریں فکر نہ کریں مجھ میں اللہ کے فضل سے فکر ، رنج، مصیبت، ابتلا کے برداشت کی صلاحیت ہے۔“۔۔۔۔۔۔12 /نومبر 1948ء ” میری پاک دامن مقدس بیوی ! میری عفیفہ رفیقہ حیات۔میں مانتا ہوں کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے اور میری تحریر اور خیر خیریت آپ کے لئے باعث صد مسرت ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ اگر کسی وقت کسی مجبوری کی بناء پر میں آپ کو نہ لکھ سکوں تو میری معذوری خیال کر کے درگز رہی بہتر ہے۔ہوسکتا ہے کسی وقت جیب ہی خالی ہو۔ڈاکخانہ جانا ہی محال ہو۔طبیعت ہی گرمی ہو۔آپ کا تصور ہی پریشان کر رہا ہو فرصت نہ ہو۔یا کوئی دوسرا اہم کام آ پڑا ہو۔دوسرے اب ہم کو آپ سے کیا نسبت؟ اگر مولا کو منظور ہوا تو ملاقات نصیب ہو جائے گی۔جس کے بھروسے سے یہ 33