میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 23 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 23

شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ) بھی آکر لپٹ جاتے ہمارے لئے ایک دن بہت خوشی کا ہوتا جب عید الفطر سے پہلے ایک دن بھائی بھابی بچوں کے ساتھ ہمارے گھر آتے اور سویاں بنتیں اُس زمانے میں بازار سے سویاں لینے کا رواج نہ تھا گھروں میں مشینوں پر بنائی جاتیں۔بھائی پہلے بتا جاتے کہ ہم فلاں دن آئیں گے۔پھر سارا دن کوئی میدہ گوندھتا کوئی مشین چلاتا کوئی ڈوریوں پر سویاں سوکھنے کے لئے ڈالتا ہم بچے کھیلتے رہتے۔اگلے دن اماں ساری سو یاں بھون کر بھائی کے گھر دے آتیں بھابی کی خواہش ہوتی کہ عید الفطر کی سویاں اور عیدی وغیرہ اور عید الاضحی کی قربانی کا گوشت اماں ہی بانٹیں اکثر اماں کو لے جایا کرتے کبھی بھابی یا کوئی بچہ بیمار ہوا اماں کچھ دن وہیں رہتیں۔بھائی اماں کے بہت فرماں بردار اور خدمت گزار تھے۔اس بات کا اماں کو بھی احساس تھا سارا دکھ دردان سے ہی کرتی تھیں۔آخری بیماری اور وفات بھی بھائی کے گھر ہوئی۔بھائی کی خدمت گزاری اور فرماں برداری کا نقش ابھی تک قائم ہے۔اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے۔بھابی نے بھی بہت خدمت کی، بعد میں بھی بہت یاد کرتی تھیں کہ ہم ساس بہو سہیلیوں کی طرح رہتے تھے۔ہر دکھ سکھ کر لیا کرتے تھے آج کل سگی اولاد اتنا نہیں کرتی مگر اماں کے حسنِ سلوک نے اپنا عزت قدر کا مقام بنا لیا تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین۔“ خاکسار کا قادیان میں جو وقت گزرا اپنی کم سنی کی وجہ سے زیادہ یاد نہیں ایک نقشہ جو ذہن میں محفوظ ہے اس سے ابا جان کا اپنے بیوی بچوں کو آرام دینے کا احساس اجاگر 23