میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 22 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 22

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر رکھ لی اور میری آنکھ کھل گئی مجھے یقین تھا سچ سچ وہ چونی مجھے دے گئی ہیں۔میں نے تکیہ دیکھا اپنا بستر جھاڑا لیکن وہاں پر کچھ بھی نہیں تھا نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر ہر روز کے معمول کے مطابق میں اپنے کمرہ میں جھاڑو دینے لگی اور دروازے کی دہلیز پر پہنچی تو وہاں پر ایک چونی پڑی تھی اور میں وہ لے کر اُسی وقت آپ کے پاس آگئی ہوں کیونکہ یہ میری نہیں یقینا یہ وہی چوٹی ہے جو آپ کی امی آپ کے لئے دے گئی تھیں۔میں نے وہ چوٹی لے لی اور اُس لڑکی کو جا کر دے دی اور اس طرح اپنی جان چھڑوائی۔میرا ایمان ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ مجھ میں دعاؤں کا ذوق پیدا ہو اور قبولیت دُعا پر میرا ایمان اور یقین ہمیشہ کے لئے قائم ہو جائے اور یہ کہ جو کچھ مانگنا ہے اللہ تعالیٰ سے مانگو وہ ناممکن کوممکن میں بدل دینے والا ہے۔اس واقعہ کے چند دن بعد ہی ہمیں بھی روز کے دو پیسے اور جمعے کے دن ایک آنہ ملنے لگ گیا۔بہت دن کے بعد یہ واقعہ میں نے آپا جان سیدہ اُئِم طاہر اور سید نا ابا جان کو بھی بتا دیا۔وہ بھی اس بات پر بہت خوش ہوئے کہ تم نے بہت اچھا کیا جو اپنے مولا سے مانگا اور بندوں کی طرف رجوع نہیں کیا۔گھر کا ماحول آپس کی معاملہ نہمی سے بہت خوشگوار رہتا۔پھوپھی جان صادقہ صاحبہ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا: ”ہماری بھابی آمنہ بیگم، اللہ بخشے، بہت نیک مزاج، ملنسار اور سب کا دل خوش کرنے والی بھائی تھیں اماں جب بھی ان کے گھر جاتیں سب محبت سے بچھے جاتے ، بچے 22