میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 20
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر لڑکیاں صبح ناشتہ کے بغیر ہی جلدی میں سکول آجاتیں۔اس طرح ایک لڑکی صبح ناشتہ کے بغیر ہی گھر سے سکول آگئی اور پیسے لانا بھی شاید بھول گئی اس کے ساتھ ایک لڑکی کھڑی تھی جو ایک پیسے کے چنے خرید کر کھا رہی تھی اس لڑکی کو ساتھ کی لڑکی نے کہا جو پیسے نہیں لائی تھی کہ تمہارے پاس دو پیسے تھے ایک پیسے کے تم نے چنے کے لئے ایک پیسہ جو تمہارے پاس ہے مجھے دے دو میں پیسے لانا بھول گئی ہوں۔وہ انکار کر رہی تھی کہ میں نہیں دے سکتی وہ لڑکی منت کرنے لگی کہ میں ناشتہ بھی نہیں کر کے آئی مجھے بھوک لگ رہی ہے میں کل تمہیں یہ پیسہ لا کر دے دوں گی جب وہ کسی طرح بھی رضامند نہ ہوئی تو اُس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ سفارش کر دیں مجھے بھوک لگی ہے میں کل لا دوں گی مجھے اُس لڑکی پر ترس آگیا میں نے کہا دے دو یہ کل لادے گی۔میرے کہنے پر اُس لڑکی نے اُسے پیسہ دے دیا۔وہ لڑکی ہر روز ہی جب دوسری لڑکی سے اپنا پیسہ مانگتی تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی اس طرح ہفتوں گزر گئے۔وہ لڑکی ہر روز مجھے بھی کہتی کہ آپ نے اس کی سفارش کی تھی۔اُن دنوں ہم بچوں کو اتنی چھوٹی عمر میں ہاتھ میں سوائے عید وغیرہ کے پیسے نہیں ملتے تھے۔جس چیز کی ہم خواہش کرتے وہ منگوادی جاتی تھی۔آخر ایک دن اُس لڑکی نے مجھے کہا کہ اگر فلاں دن تک پیسہ نہ دیا تو میں حضور کو تمہاری شکایت کر دوں گی۔میں سخت گھبرائی اور بے حد پریشان ہوئی کہ سید نا ابا جان کو معلوم ہو گیا تو آپ کو اس بات کی سخت تکلیف ہوگی کیونکہ میں جانتی تھی کہ سید نا ابا جان کو قرض لینا برداشت ہی نہیں اور قرض لینے سے سخت نفرت تھی۔تو میں نے رورو کر نماز میں دعا ئیں شروع کر دیں اور 20