میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 15
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر طرح فراخی تھی ایک مصدقہ دستاویز کے مطابق تقسیم ہند کے وقت درویش کی قادیان میں جائیداد کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔( یہ اس وقت کی بات ہے جب گندم 5 روپے من اور دیسی گھی ایک روپے سیر ملتا تھا) قربانی کی جھلک یہاں بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔جب حضور نے وقف جائیداد کا مطالبہ فرمایا تو وہ جائیداد جو موروثی یا پشتی نہیں تھی بلکہ واقعی طور پر گاڑھے پینے کی کمائی تھی پوری بشاشت کے ساتھ پیش کر دی۔آپ کی آمد میں برکت تھی اور دل بھی کھلا تھا۔خدمت خلق اور مہمان نوازی کا شوق تھا۔بلکہ یہ شوق سانجھا تھا دونوں میاں بیوی کو ایتاء ذی القربیٰ کی بہت توفیق ملی بہت سے رشتہ داروں کو قادیان بلا کر بسنے میں مدد دی۔کسی کو کوئی ہنر سکھا یا کسی کو دکان بنانے میں مدد دی۔کئی بچیوں کے رشتے طے کرائے کئی شادیاں اپنے خرچ پر کروائیں۔کئی نادار مریضوں کے علاج معالجے میں مدد فرماتے تھے۔غرباء یتامی و مساکین کی دلجوئی اور خبر گیری بھی کرتے تھے۔دار الشیوخ میں مقیم طلباء کو گاہے گاہے کھانا پکوا کر بھجوایا کرتے تھے ان سے فرمائش بھی پوچھتے اور من پسند کھانے کا سامان پیش کرنے میں خوشی محسوس کرتے۔ضرورت مندوں کی خاموشی سے مدد کرتے طلباء کی تعلیم کا خرچ بھی اُٹھاتے۔حقوق العباد کی ادائیگی میں کمال فراخ دلی والتزام کی وجہ سے مرکز سلسلہ احمدیہ قادیان میں ہمارا گھر سب رشتہ داروں کا مرکز بنا رہتا تھا۔15