میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 16
شادی۔آپس کا حسنِ سلوک - جدائی بصبر ) ایک یادگار واقعہ ابا جان کے الفاظ میں درج ہے: ایک دفعہ مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ کرام ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہورہے ہیں کیوں نہ ایسا پروگرام بناؤں کہ ہفتے دس دن بعد کسی ایک صحابی کو گھر پہ دعوت دوں تا کہ بیوی بچے پاکیزہ کلام، سیرت و سوانح ، ذکر حبیب سُن کر اپنے ایمان کو تازہ کریں۔چنانچہ اس پر عمل شروع ہوا گھر کے افراد ان کے ارد گرد بیٹھ جاتے۔مل کر کھانا کھاتے اور باتیں سن کر لطف اندوز ہوتے۔ایک دن ہم دونوں میاں بیوی نماز جمعہ کے لئے مسجد میں موجود تھے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارشاد فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا اصحاب مسیح دیکھنے کو بھی نہ ملیں گے ایک ایک کر کے جدا ہوتے جا رہے ہیں۔ان کی صحبت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔میں نے اس ارشاد سے بہت لطف لیا۔شام کو گھر واپس آیا تو میری بیوی بڑے اہتمام سے میرا انتظار کر رہی تھی جیسے کوئی مبلغ ایک عرصہ تک دعوت الی اللہ کر کے واپس آرہا ہو اس کی خوشی کی ایک ادا یہ تھی کہ موتیے کے پھولوں کے ہار میری چارپائی کے پائیوں پر لٹکا دیتی اُس کے چہرے پر حیا اور مسرت کی ملی خیلی کیفیت ہوتی تھی۔اس دن یہ سب اہتمام دیکھ کر میں نے پوچھا کیا بات ہے کس بات کی خوشی ہے؟ کہنے لگی آپ کے گھر آنے کی کم خوشی ہونی چاہیے؟ میں نے کہا کہ کیا میں امریکہ سے تبلیغ کر کے آیا ہوں؟ کہنے لگی ایسا ہی لگتا ہے۔16