میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 9
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) پڑے بابرکت گھر میں داخل ہوئی۔بیوی کو دیکھا تو اپنی والدہ صاحبہ کے الفاظ یاد آئے۔وہ تو واقعی خور تھیں۔صحن کے جنوب مشرقی کونے میں ایک کمرہ بنوایا گیا تھا۔بڑے بیٹے حضرت عبدالغفور صاحب کی فیملی کے لیے بھی ایک کمرہ کا اضافہ ہوا تھا۔دلہن کی بیماری اور شفا لہن کو شادی کے بعد شدید بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔ابا جان نے اپنی ڈائری میں اس کا احوال یوں لکھا ہے کہ ”دعوت ولیمہ ہو رہی تھی حضرت اقدس خلیفتہ المسیح الثانی تشریف لائے ہوئے تھے میں نے بیوی کو کہا کہ آؤ دیکھو حضور تشریف لائے ہیں مگر اُس کو بخار چڑھ رہا تھا۔اچھی طرح دیکھے نہ پارہی تھی پھر بخار بہت تیز ہو گیا اور خطر ناک صورت اختیار کر گیا۔کسی طرح آرام نہ آ رہا تھا میں حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے درخواست کرنے گیا۔میری پریشانی دیکھ کر حضور نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو معائنہ کی ہدایت فرمائی آپ اُس وقت قادیان کے نواحی علاقے میں ٹینس کھیل رہے تھے حضور کا ارشاد سن کر میرے ساتھ تشریف لائے ڈاکٹر رشید الدین صاحب بھی تشریف لائے اور مشورہ سے نسخہ تجویز کیا۔مکرم حکیم صاحب کو بھی ان کی بیٹی کی بیماری کی اطلاع دی گئی آپ نے سفر کے لئے ایک گھوڑا رکھا ہوا تھا گھوڑے پر قادیان آئے بچی کی حالت دیکھی خود حکیم تھے بیماری کی شدت کا اندازہ تھا افسردگی سے فرمایا: ”اچھا اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا میری بچی تو زندگی میں ہی جنت میں آگئی تھی۔“ 9