میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 72 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 72

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) اپنے آٹھوں بچوں کی تربیت و تعلیم اور شادیاں بہت اچھی طرح سرانجام دیں۔اپنے بچوں کو خدمت سلسلہ میں وقف دیکھنے کی تڑپ تھی خود بھی لجنہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں اپنی پانچوں بیٹیوں کو بچپن سے ہی لجنہ کے کاموں میں لگا دیا اور ہمیشہ کام کرتے رہنے کی تاکید کی۔“ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد چہارم صفحہ 488) تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں آمنہ بیگم صاحبہ کا نمبر 722 ہے۔(صفحہ 37) ابا جان کو چہیتی بیوی کی وفات کی خبر دو وجود بظاہر الگ الگ رہ کر بھی ایک ہی تھے۔باہم افہام و تفہیم اور عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جدائی جدائی نہیں بلکہ قرب و وصال کے لیے باعث رشک بن گئی تھی لیکن دست قضا نے دونوں کے جہان ہی بدل دیے۔ایک مہجور کے لیے زندگی کے ساتھی کی رحلت کی خبر پہاڑ ٹوٹ پڑنے کے مترادف ہوسکتی ہے مگر درویش کا صبر و حوصلہ اور توکل علی اللہ دیکھیے، تہتر سال عمر، صحت کمزور، بچوں سے دور، کوٹھری میں تنہا، مگر راضی بہ رضا ہونے کا مثالی رد عمل دکھایا۔یہ بھی درویش مرحوم سے اللہ تعالیٰ کا خاص سلوک تھا کہ اطلاع ایسے وقت میں ملی جب آپ اللہ تعالیٰ ہی کے گھر میں تھے اور نیک ساتھی غمگساری کرنے کے لیے موجود تھے۔ڈاک کے نظام کی وجہ سے وفات کی اطلاع چار دن بعد ملی جبکہ امی کی تدفین بھی ہو چکی تھی۔دلگداز تحریر پڑھیے: 72