میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 57 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 57

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ، صبر ) توکل اور سادگی و صبر کی عادت نہ ہوتی تو ابا جی درویشی کی سعادت ہرگز نباہ نہ پاتے امی جان نے کمال ہمت حو صلے اور صبر سے بااحسن ادا ئیگی کا ہر چیلنج قبول کیا بلکہ ابا جان کا حوصلہ بڑھاتی رہیں اور کبھی پریشانی طعن و تشنیع اور کم حوصلگی کا مظاہرہ نہ کیا۔امی جان نے بڑے سخت وقت دیکھے مگر بڑے وقار کے ساتھ ان سے عہدہ برآ ہوئیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک بیٹی کی بیماری شدت اختیار کرگئی۔دوا اس لیے نہ دلا سکی تھیں کہ ہسپتال میں دو پیسے کی پرچی بنوانی پڑتی تھی اور اس وقت بچی کے علاج کے لیے مامتار و پیسے بھی مہیانہ کر پائی تھی۔امی جان سے اللہ پاک کا بڑے پیار کا سلوک تھا۔اللہ پاک آپ کو بہت دلا سے دیتا۔اپنے قرب کا احساس دلاتا۔آپ کو اس تعلق کے اظہار کی عادت نہیں تھی۔زیادہ تر خاموش رہتیں۔جو ہمارے علم میں آجاتے ان بے شمار ایمان افروز واقعات میں سے کچھ بطور مثال پیش کرتی ہوں امی جان نے بتایا کہ وہ بہت چھوٹی تھیں جب ان کی والدہ صاحبہ والد صاحب کے قبول احمدیت سے پہلے فوت ہو گئی تھیں، امی کو قلق رہتا والدہ کی مغفرت کے لیے بہت دعا کرتیں۔ایک دن جائے نماز پر ہی یہ نظارہ دیکھا کہ والد صاحب والدہ صاحبہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے آرہے ہیں کہتے ہیں فکر نہ کرو تمہاری اماں میرے ساتھ ہے۔میں چھوٹی تھی امی جان نے مجھے دفتر سے وظیفہ کی رقم لینے کے لیے بھیجا۔اس وقت ہمیں ایک مہینے کے لیے پندرہ روپے ملتے تھے۔میں نے روپے لیے اور دوپٹے کے پلو 57