میاں عبدالرحیم صاحب دیانت

by Other Authors

Page 32 of 93

میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 32

شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر والی مادر مہربان حضرت سیدہ چھوٹی آپ تھیں۔آپ نے ایک برآمدے میں ٹھہرانے کا انتظام فرمایا اور آپا لطیف کو خواتین کے قیام و طعام کی منتظم مقرر کر دیا۔سب بالکل خالی ہاتھ آئے تھے یہ سلسلہ کی برکت اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا حسن تدبر تھا کی تعظیم کے ساتھ سب کو سنبھال لیا۔ایک ایک روٹی فی کس لنگر خانے سے دی جانے لگی امی بتاتی ہیں کہ شروع میں کسی کے پاس ایک سے دوسرا جوڑا نہیں تھا۔بچوں کو نہلا کر اپنے برقع میں لپیٹ لیتیں اور کپڑے دھو کر ڈال دیتیں۔بچیوں کی تعلیم بھی بغیر وقت ضائع کیسے شروع ہوگئی۔یکم دسمبر کو چھوٹا بھائی عبد السلام پیدا ہوا۔جماعت کی طرف سے ہر زچہ کو ایک پاؤ گھی اور کچھ چینی ملتی تھی۔آپا منتظم تھیں بتاتی ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے کمرے میں سامان تھا اس میں سے تول کر حصہ دیا کرتے تھے۔بچے کے لیے حضرت صاحبزادی امتہ العزیز صاحبہ نے از راہ شفقت کچھ کپڑے تحفہ دیے۔ان کسمپرسی کے حالات میں بھی امی جان کا حوصلہ قائم تھا بلکہ اباجان کی ہمت بندھاتی تھیں۔تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم صفحہ 21 پر چند احمدی خواتین کے پر از ایمان خطوط قادیان میں مقیم بہادر نوجوانوں کے نام، کے تحت آپ کا خط بھی شامل ہے۔جو آپ نے اپنے محترم شوہر کو لکھا: استقلال اور ہمت سے ڈٹے رہیں۔اور (قادیان) کو فتح کرنا آپ کا فرض ہے بہر حال جب تک حضور کا حکم نہ ہو آپ قادیان چھوڑ کر یہاں بالکل نہ آئیں۔“ 32