میاں عبدالرحیم صاحب دیانت — Page 13
شادی۔آپس کا حُسنِ سلوک - جُدائی ،صبر ہو جاتا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے میاں بیوی کی باہم ناراضگی ، نا خوشی اور جھوٹ وغیرہ کا بالکل کوئی دخل نہیں تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ تعلق مضبوط اور گہرا ہوتا گیا۔ایک دوسرے کے جذبات کا احترام گھر کے سکون میں اضافہ کرتا۔دینی احکام کی کماحقہ تعمیل کرتیں۔پردہ اور حیا اگر ایک احمدی عورت کا زیور اور خوبصورتی ہے تو آپ میں یہ جوہر بدرجہ کمال موجود تھا۔دونوں کا اپنے اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی قابل رشک تھا۔ابا جان کی کاروبار میں انہماک کی وجہ سے بعض نیک کاموں کی تحریک اور یاد دہانی بھی کرواتیں۔ایک دفعہ دادی اماں نے پوچھا عبد الرحیم صبح نماز کے لیے اٹھتا ہے۔امی کے جواب میں ذرا ہچکچاہٹ دیکھ کر انہوں نے کہا نہ اٹھے تو پانی کا ہلکا چھینٹا مار دیا کرو۔امی جان نے کہنا مانا اور اگلی صبح چھینٹا ماردیا ابا جان نے حیرت اور خفگی سے امی کی طرف دیکھا تو آپ نے حجٹ کہہ دیا آپ کی اماں نے کہا تھا اس پر ابا جان خاموش ہو گئے اور اس کے بعد پانی کا چھینٹا مارنے کی نوبت نہ آئی۔نماز با جماعت اور جمعہ پر جانے کا خاص اہتمام ہوتا۔پہلے سے تیاری شروع کر دیتیں۔جس کی وجہ سے غفلت کا امکان نہ رہتا۔قادیان کے زمانے کی بات ہے۔ابا جان کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں اکثر کبھی بٹالہ کبھی امرتسر جانا پڑتا تھا تحریک جدید کے اجرا سے پہلے کا زمانہ تھا جب کبھی موقع ملتا سینما بھی چلے جاتے جس کی وجہ سے واپسی میں دیر ہو جاتی۔امی جان کو یہ بات پسند نہیں تھی مگر کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔ایک جمعہ کے دن یہ پروگرام بنایا کہ جمعہ سے واپسی کے بعد امرتسر جائیں گے اور وہاں سے شوق سینما بینی پورا کر کے واپسی ہوگی۔امی جان نے 13